خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 353 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 353

353 سکولوں، کالجوں کے اساتذہ، پروفیسر ز ، طالبعلموں، گورنمنٹ ملازمین اور وکلاء کو خصوصیت سے اس طرف متوجہ کیا۔نیز احمدی خواتین کو اپنے علاقوں میں وقف عارضی کرنے کی ہدایت کی نیز ان کو خاوندوں، والد یا بھائیوں کے ساتھ دوسری جگہ جانے کی اجازت عطا فرمائی اور بڑی تفصیل کے ساتھ واقفین عارضی کی ذمہ داریاں اور وقف عارضی کی برکات بیان فرمائیں۔وقف عارضی ہر احمدی کا فرض ہے حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:۔وقف عارضی کی ضرورت بہت ہے۔بات یہ ہے کہ جماعت کا ایک حصہ بھول گیا ہے کہ افراد جماعت خود مربی سلسلہ ہیں اور مربیوں کی تعداد میں جو تھوڑ اسا اضافہ ہوا ہے وہ کافی نہیں۔جماعت سمجھتی ہے کہ اصلاح وارشاد کا کام مربیوں کا ہے حالانکہ ہر احمدی کو بڑی توجہ کے ساتھ اصلاح وارشاد کا کام کرنا چاہئے۔یہ توجہ پیدا کرنے کے لئے اور جماعت میں اصلاح وارشاد کا شوق پیدا کرنے کے لئے میں نے عارضی وقف کی سکیم جاری کی ہے۔اس میں روحانی فوائد بھی ہیں اور جسمانی فوائد بھی“۔(رپورٹ مجلس مشاورت 1966 ء ) احباب جماعت نے اس تحریک پر والہانہ لبیک کہا اور حضور کے 17 سالہ دور خلافت میں 1966 ء تا1982ءقریباً40 ہزار افراد نے اس میں شرکت کی سعادت پائی اور دل ٹھنڈے کئے۔تعليم القرآن اس تحریک کا مرکزی نکتہ قرآن کی تعلیم کو عام کرنا تھا۔چنانچہ جگہ جگہ قرآن پڑھنے پڑھانے کی کلاسیں گو یا فیکٹریوں میں تبدیل ہو گئیں اور مربیان اور معلمین کی تعداد میں کمی کی وجہ سے جو کام ست ہو رہا تھا اس نے دوبارہ رفتار پکڑ لی۔اسی مقصد کے لئے حضور نے تعلیم القرآن اور وقف عارضی کی ایک نظارت قائم فرمائی۔جس کی راہنمائی میں واقفین عارضی خدمات سرانجام دیتے ہیں۔اسی طرح حضور نے مجلس موصیان کا بھی اس نظارت سے گہرا رابطہ قائم فرمایا۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:۔