خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 276 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 276

276 (الفضل 6 مئی 1927ء) کارگر ہو سکتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتائے ہیں مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ گھر کی لڑائی چھوڑ کر دشمن کا مقابلہ کیا جائے“۔اس سلسلہ میں حضور نے مسلمانان ہند سے تین باتوں کی خواہش کی۔1۔دشمن کے مقابلہ کے وقت ہم آپس میں متحد ہو جائیں اور ایک دوسرے کے مددگار بن جائیں۔2 مسلمان اپنے ماحول کے حالات سے باخبر رہیں اور جس جگہ وہ ہندوؤں کے حملہ کا دفاع نہیں کر سکتے وہ ہمیں اطلاع دیں۔ہم اپنے آدمی بھیج دیں گے۔3۔جہاں جہاں آریوں اور عیسائیوں کا زور ہو۔وہاں مسلمان تبلیغی جلسے کر کے ہمارے واعظوں کو بلوائیں۔( خطبات محمود جلد 11 ص 77) اس اعلان پر اسلام کا درد رکھنے والا طبقہ احمدی واعظوں کو اپنے جلسوں میں بھی بلانے لگا اور احمدی اور غیر احمدی مسلمان دونوں ایک پلیٹ فارم پر اسلام کا دفاع کرنے لگے چنانچہ اس زمانہ کے اخبارات میں ایسی مثالیں بکثرت موجود ہیں کہ دوسرے مسلمانوں کو جہاں بھی اور جس وقت بھی آریوں یا عیسائیوں کے خلاف جلسہ کرنے یا مناظرے کرنے کی ضرورت پیش آئی احمدی مبلغ دعوت ملتے ہی وہاں بلا تامل پہنچے اور انہوں نے مخالفین اسلام کے دانت کھٹے کر دیئے۔چنانچہ خواجہ حسن نظامی صاحب نے اپنی کتاب ” مسلمان مہارانا میں اقرار کیا کہ اگر چہ میں قادیانی عقیدہ کا نہیں ہوں نہ کسی قسم کا میلان میرے دل میں قادیانی جماعت کی طرف ہے۔لیکن میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ قادیانی جماعت اسلام کے حریفوں کے مقابلہ میں بہت مؤثر اور پر زور کام کر رہی ہے۔(الفضل 31 مئی 1927ء ص 5) مسلمانان ہند کے لئے وسیع اور ہمہ گیر تحریک مئی 1927 ء میں لاہور میں ہونے والے فسادات کے پیچھے مسلمانوں کو ختم کرنے کی زبر دست روح کام کر رہی تھی۔اس لئے حضور نے صرف مظلومین لاہور کو امداد دینے کے علاوہ مسلمانان ہند کی اقتصادی، معاشی، سیاسی اور مذہبی ترقی کے لئے ایک ملک گیر تحریک چلانے کا فیصلہ کر لیا۔اس سلسلہ میں حضور نے سب سے پہلے قادیان کے ناظروں ، مبلغوں ، ایڈیٹروں ، مصنفوں، طالب علموں اور