خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 277
277 استادوں کو دفتر ڈاک میں بلایا اور ملکی حالات پر مفصل تقریر فرمائی اور انہیں اپنی تحریک سے متعلق نہایت اہم ہدایات دیں۔الفضل 10 مئی 1927 ء ص (1) جماعت احمدیہ کو اپنی اہم تحریک سے روشناس کرانے کے بعد حضور نے مسلمانوں کو ان خطرناک حالات کے مقابلہ میں متحد کرنے کے لئے پے در پے مضامین، پوسٹر اور اشتہارات شائع فرمائے۔چنانچہ اس سلسلہ میں آپ کے قلم سے پہلا مضمون ”امام جماعت احمدیہ کا فسادات لاہور پر تبصرہ کے عنوان سے شائع ہوا۔جس میں آپ نے مسلمانوں کو توجہ دلائی کہ فسادات لاہور سے سبق لیں اور اشاعت اسلام کی طرف توجہ دیں۔دوسری اہم بات جس کی طرف آپ نے اس مضمون میں مسلمانوں کو توجہ دلائی یہ تھی کہ: مسلمانوں کو چاہئے کہ سکھ صاحبان سے تعلقات کو بڑھائیں اور شورش کی وجہ سے اس امر کو نظر انداز نہ کر دیں کہ سکھ صاحبان صرف ہندوؤں کا ہتھیار بنائے گئے ہیں۔ورنہ وہ دل سے مسلمانوں کے دشمن نہیں ہیں بلکہ بوجہ اپنے بزرگوں کی نصائح اور توحید پر ایمان رکھنے کے مسلمانوں کا داہنا بازو ہیں اور مسلمانوں کی ذراسی توجہ کے ساتھ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کر کے مسلمانوں کے ساتھ مل کر ملک سے فساد اور شورش کو مٹانے کی طرف متوجہ ہو جائیں گے۔خصوصاً جبکہ ان کا سیاسی فائدہ بھی مسلمانوں سے ملنے میں ہے کیونکہ ہندوؤں سے مل کر وہ اس صوبہ میں قلیل التعداد ہی رہتے لیکن مسلمانوں سے مل کر وہ ایک زبر دست پارٹی بنا سکتے ہیں۔جو پنجاب کو اس کی پرانی شان و شوکت پر قائم کرنے میں نہایت مفید الفضل 13 مئی 1927 ء ص (2) ہو سکتی ہے۔اسلامی اتحاد کے 31 نکات اس مضمون کے ساتھ حضور نے ایک مفصل ٹریکٹ بھی شائع فرمایا۔جس کا عنوان تھا۔آپ اسلام اور مسلمانوں کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟ اس ٹریکٹ میں حضور نے اسلامی اتحاد کی تحریک کے اکتیس اہم نکات مسلمانوں کے سامنے رکھے جن میں انجمن ترقی اسلام سے تعاون کی اپیل فرمائی۔یہ نکات حضور ہی کے الفاظ میں درج ذیل ہیں۔1۔آپ آج سے اقرار کر لیں کہ جہاں تک آپ کے اختیار میں ہوگا۔آپ جائز طور پر مسلمانوں کی