خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 157 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 157

157 احمدی خواتین کو تحریک کرتے ہوئے فرمایا:۔لندن کی مسجد چونکہ احمدی عورتوں کے چندہ سے بنی ہے اس لئے انہی کی ہے۔مردوں کا روپیہ مکان خرید نے اور تجارت پر لگایا گیا اور کچھ روپیہ یہاں جماعت کے لئے جائیداد خریدنے پر صرف کیا گیا تھا اس طرح چونکہ مردوں کا روپیہ خرچ ہوا تھا اس لئے لندن کی مسجد عورتوں کے اس روپیہ سے بنی ہے جو مسجد کے لئے جمع کیا گیا تھا۔چونکہ وہ مسجد عورتوں ہی کی ہے اس لئے اس مشن کا سارا خرچ عورتوں کو ہی برداشت کرنا چاہئے۔اس سال نو ہزار کی تحریک عورتوں میں کی جاتی ہے۔میں سمجھتا ہوں تمام دنیا میں پھیلی ہوئی جماعت کی عورتوں کے لئے 9 ہزار کی رقم نہایت قلیل ہے اور وہ بہت جلدی اسے پورا کر دیں گی۔نیز فرمایا کہ مرد اس تحریک میں حصہ نہ لیں۔(خطبات محمود جلد 11 ص 499) چنانچہ احمدی مستورات نے حسب سابق حضور کے اس مطالبہ پر پورے اخلاص سے لبیک کہا اور قادیان، امرتسر ، لدھیانہ، کراچی، گوجرانولہ، سنتو کداس، سیالکوٹ، کیمبل پور، لاہور، فیروز پور، لالہ موسیٰ ، گھٹیالیاں ، میلسی، ملتان، میرٹھ، دہلی، نوشہرہ چھاؤنی، ایبٹ آباد، فیض اللہ چک ضلع گورداسپور ضلع محبوب نگر ، ڈیرہ غازی خاں ، جہلم، بھیرہ ، چکوال ، کنتھوالی چک 312 ، کوہاٹ اور راولپنڈی وغیرہ مقامات کی مستورات نے اس مالی قربانی میں نہایت اخلاص سے حصہ لیا۔بیرونی ممالک میں ماریشس کی احمدی عورتوں نے بھی چندہ دے کر اپنے اخلاص کا ثبوت دیا۔مسجد لندن کی مرمت کے لئے خواتین سے اپیل: حضرت مصلح موعودؓ نے 1931ء میں فرمایا :۔ނ الفضل 23 اکتوبر 1928 ء ) انگلستان کے خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد لندن میں جو صرف احمدی خواتین کے روپیہ سے تیار ہوئی تھی اور جس کی وجہ سے ہماری جماعت کی مستورات کے اخلاس اور قربانی کی تمام دنیا میں دھوم مچ گئی تھی۔اس کا گنبد کسی انجینئر نگ کے نقص کی وجہ سے خطرہ کی حالت میں ہے اور عمارت کے فن کے ماہروں نے مشورہ دیا ہے کہ فوراً گنبد کی مرمت کی جائے اور ایسے خول چڑھائے جائیں جن سے وہ کلی طور پر محفوظ ہو جائے ورنہ مسجد کی تمام عمارت کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہی نہیں بلکہ غالب یقین ہے۔ضروری مرمت کے اندازے بھی میں نے لگوائے ہیں اور کم سے کم اندازہ چھ ہزار روپیہ کا ہے۔لیکن