خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 158 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 158

158 چونکہ اخراجات عام طور پر اندازوں سے بڑھ جایا کرتے ہیں۔اس لئے اصل اندازہ سات اور آٹھ ہزار کے درمیان لگانا چاہئے۔اس رقم کے جمع کرنے کے لئے میں خواتین جماعت احمدیہ سے اپیل کرتا ہوں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس قدر عظیم الشان یادگار قائم کرنے کے بعد اگر انہوں نے اس کی ضروری مرمت سے بے تو جہی کی تو جس طرح دنیا میں ان کی شہرت ہوئی ہے اسی طرح ان کی دوسری سستی کی وجہ سے بدنامی ہوگی۔عورتوں کو ترغیب دلاتے ہوئے فرمایا: اپنے عمل سے یہ ثابت کر دو کہ اگر دوسری قوموں کی عورتیں مذہبی اور قومی کاموں سے بے پرواہ اور غافل ہیں تو احمدی جماعت کی مستورات ایسی نہیں ہیں۔انہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے وہ دل و گردہ دیا ہے کہ ہر ایک آواز جو دین کی خدمت کے لئے اٹھتی ہے۔وہ اس پر لبیک کہتی ہیں اور دین کی خدمت پر ان کے دل میں ملال نہیں پیدا ہوتا بلکہ ان کا دل اس خوشی سے بھر جاتا ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ایک کام کرنے کا موقع ملا۔(الفضل 27 راگست 1931ء) حضور کی اس تحریک میں بیگم صاحبہ سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب نے مبلغ ایک ہزار روپیہ چندہ دیا اور باقی رقم بھی دوسری خواتین سلسلہ کے اخلاص اور قربانی کی وجہ سے وقت کے اندر پوری ہوگئی۔مسجد اقصیٰ قادیان کی توسیع کی تحریک: حضور نے فرمایا: یہ مسجد جوکسی وقت آدمیوں کی محتاج تھی اب ہمارے لئے تنگ ہورہی ہے اب وہ دن آ گیا ہے کہ ہم اسے بڑھانے کی کوشش کریں۔اس کے جس طرف راستہ ہے۔ادھر تو بڑھائی نہیں جاسکتی۔اس لئے اس کے بڑھانے کی صرف یہی صورت ہے کہ دوسری طرف کے مکانات خرید کر اس میں شامل کرلئے جائیں۔ایک مکان تو خرید بھی لیا گیا ہے اور اگر خدا نے چاہا تو کسی وقت مسجد میں شامل کیا جا سکے گا۔میں نے سنا ہے کہ ایک دوست اپنا مکان فروخت کرنا چاہتے ہیں۔کارکنوں کو چاہئے کہ اگر وہ فروخت کریں تو اسے خرید لیں اور اس کی تعمیر کو صرف قادیان والے اپنا فرض سمجھیں۔یہ غلط اصول ہے کہ ہم مقامی کاموں میں بیرونی جماعتوں کی امداد کے خواہشمند ہوں۔۔کوئی وجہ نہیں کہ