خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 156
156 گھر میں ان کے سوا کوئی چیز نہیں۔یہی دو بکریاں ہیں جو قبول کی جائیں۔قادیان کے باہر کی مستورات نے بھی قربانی کے قابل رشک اور قابل فخر نمونے دکھائے۔چنانچہ اہلیہ صاحبہ کپتان عبدالکریم صاحب ( سابق کمانڈر انچیف ریاست خیر پور ) نے اپنا کل زیور اور اعلیٰ کپڑا چندے میں دے دیا۔اس قسم کے اخلاص کا نمونہ چوہدری محمد حسین صاحب صدر قانونگو سیالکوٹ، سیٹھ ابراہیم صاحب، خان بہادر علی خاں صاحب اسٹنٹ پولیٹیکل افسر چکدرہ ( بنوں) حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری ، ڈاکٹر اعظم علی صاحب جالندھری ، خان بہادر صاحب خان نون اکسٹرا اسٹنٹ کمشنر ، حضرت ڈاکٹر قاضی کرم الہی صاحب امیر جماعت امرتسر (والد ماجد قاضی محمد اسلم صاحب) میاں محمد دین صاحب واصل باقی نویس کے خاندان کی مستورات نے بھی دکھایا۔الفضل یکم مارچ 1923 ء ص 2,1 ) اس طرح جماعت کی خواتین نے فوری طور پر 50 ہزار روپیہ جمع کر دیا مگر خدا تعالیٰ کی تقدیر تھی کہ جرمنی کے حالات یکا یک بدل گئے۔کاغذی روپیہ کو عملاً منسوخ کر دیا گیا اور سکہ سونے کا جاری کر دیا گیا۔اس وجہ سے دو تین سو گنا قیمت بڑھ گئی۔پہلے اندازہ تھا کہ تمہیں ہزار میں مسجد بن جائے گی۔مگر اب یہ انداز ہ 15 لاکھ روپیہ تک جا پہنچا۔اس لئے حضور نے بمشورہ نمائندگان جماعت تعمیر مسجد کے کام کو ملتوی کر دیا اور مسجد برلن کے لئے جو رقم وصول ہوئی تھی وہ لندن مشن کو مضبوط بنانے میں لگا دی گئی۔مسجد برلن کی تعمیر کا یہ خواب خلافت خامسہ میں پورا ہورہا ہے۔حضرت خلیفتہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے 2 جنوری 2007ء کو مسجد برلن کا سنگ بنیا درکھا۔الفضل 23 جنوری 2007ء ص 8 ) مسجد لندن کا خرچ مسجد لندن کی تعمیر کے بعد انگلستان میں تبلیغ اسلام کا کام روز بروز بڑھ رہا تھا چنانچہ مبلغ انگلستان خان صاحب فرزند علی صاحب کی طرف سے حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں یہ درخواست پہنچی کہ کام زیادہ ہے اور عملہ بڑھانے کی ضرورت ہے اس کی تائید حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے بھی ولایت کے دوران قیام میں کی تھی۔اس لئے حضور نے فیصلہ صادر فرمایا کہ ایک مبلغ کا وہاں اضافہ کر دیا جائے اور بجائے ہندوستان سے کوئی نیا مبلغ بھیجنے کے خود انگلستان کے کسی نو مسلم کو اس کام پر مقرر کیا جائے۔صدر انجمن کے بجٹ میں اس کی گنجائش نہیں تھی اس لئے حضور نے 12 اکتوبر 1928 ء کو