خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 155
155 ملتی ہے تو صرف اور صرف قرون اولیٰ کی صحابیات میں !! چنانچہ ام المومنین حضرت اماں جان کو ایک جائیداد میں سے پانچ سوروپے کا حصہ ملا تھا جو آپ نے سب کا سب چندہ میں دے دیا۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے ایک ہزار روپیہ دیا۔حضرت نواب امة الحفظ بیگم صاحبہ، بیگم صاحبہ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب۔حضرت ام داؤد (اہلیہ حضرت میر محمد اسحاق صاحب) اور بیگم صاحبہ خان بہادر حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب نے مقدور بھر حصہ لیا۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے اہل بیت بھی خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دوسری مبارک خواتین سے اپنی قربانی میں پیچھے نہیں رہے۔حضرت ام ناصر کو حضور کی طرف سے ایک رقم ملی تھی جس کا نصف آپ نے وصیت میں اور باقی اس تحریک میں دے دیا۔حضرت امتہ الحی صاحبہ نے ایک سورو پیہ پیش کیا۔حضرت ام طاہر نے اپنا ایک گلو بند بھی دیا اور کچھ نقدی بھی۔قادیان کی دوسری احمدی خواتین میں سے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی، حضرت قاضی امیر حسین صاحب کے گھر والوں اور حامدہ بیگم صاحبہ (دختر حضرت پیر منظور محمد صاحب) نے نمایاں۔لیا۔ایک نہایت غریب وضعیف بیوہ جو پٹھان اور مہاجر تھی اور سونٹی لے کر بمشکل چل سکتی تھی خود چل کر آئی اور حضور کی خدمت میں دو روپے پیش کر دئیے۔یہ عورت بہت غریب تھی اس نے دو چار مرغیاں رکھی ہوئی تھیں جن کے انڈے فروخت کر کے اپنی کچھ ضروریات پوری کیا کرتی تھی۔باقی دفتر کی امداد پر اس کا گزارہ چلتا تھا۔ایک پنجابی بیوہ عورت نے جس کے پاس زیور کے سوا کچھ نہ تھا اپنا ایک زیور مسجد کے لئے دے دیا۔ایک اور بیوہ عورت جو کئی یتیم بچوں کو پال رہی تھی اور زیور اور مال میں سے کچھ بھی پیش کرنے کے لئے موجود نہ تھے اپنے استعمال کے برتن ہی چندہ میں دے دیئے۔ایک خاتون نے اپنا زیور چندہ میں دے دیا تھا دوبارہ گھر گئی کہ بعض برتن بھی لا کر حاضر کر دوں۔اس کے خاوند نے کہا کہ تو زیور دے چکی ہے اس نے جواب دیا کہ میرے دل میں اس قدر جوش پیدا ہورہا ہے کہ اگر خدا اس کے دین اور اس کے رسول کے لئے ضرورت پیش آئے ( اور ایسا ممکن اور جائز ہو ) تو میں تجھے بھی فروخت کر کے چندہ میں دے دوں یہ الفاظ کو ہرگز قابل تعریف نہ تھے نہ شرعا نہ اخلاقا مگر ان سے اس جوش کا ضرور اندازہ ہو سکتا ہے۔جس نے ایک غیر تعلیم یافتہ عورت کا جذ بہ فدائیت ان الفاظ میں ظاہر کر دیا۔ایک بھاگلپوری دوست کی بیوی دو بکریاں لئے الدار میں پہنچی اور کہا کہ ہمارے