خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 154
154 ستمبر 1922ء میں مولوی مبارک علی صاحب لندن سے برلن بھیجے گئے۔انہوں نے حضور کی ہدایت پر وہاں زمین کا انتظام کر لیا۔جس پر حضور نے 2 فروری 1923ء کو یہ تحریک فرمائی کہ مسجد برلن کی تعمیر خواتین کے چندہ سے ہو۔فرمایا میں نے سوچنے اور غور کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ جرمنی میں جو مسجد بننے والی ہے وہ عورتوں کے چندہ سے بنے۔پھر حضور نے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔۔” میرا یہ منشاء ہے کہ جرمن میں مسجد عورتوں کے چندہ سے بنے۔کیونکہ یورپ میں لوگوں کا خیال ہے کہ ہم میں عورت جانور کی طرح سمجھی جاتی ہے۔جب یورپ کو یہ معلوم ہوگا کہ اس وقت اس شہر میں جو دنیا کا مرکز بن رہا ہے۔اس میں مسلمان عورتوں نے جرمن کے نو مسلم بھائیوں کے لئے مسجد تیار کرائی ہے تو یورپ کے لوگ اپنے اس خیال کی وجہ سے جو مسلمان عورتوں کے متعلق ہے۔کس قدر شرمندہ اور حیران ہوں گے اور جب وہ مسجد کے پاس سے گزریں گے تو ان پر ایک موت طاری ہوگی اور مسجد بآواز بلند ہر وقت پکارے گی کہ پادری جھوٹ بولتے ہیں جو کہتے ہیں کہ عورت کی اسلام میں کچھ حیثیت نہیں۔وہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہمارے ملک میں عورتیں بالکل جانور ہیں اور ان کو جانور ہی سمجھا جاتا اور یقین کیا جاتا ہے۔مسلمان عورتوں کو جانور کی طرح سمجھتے ہیں۔اب جب صرف عورتوں کے چندہ سے وہاں مسجد بنے گی۔تو ان کو یہ معلوم ہوگا کہ یہاں کی عورتوں کو تو یہ بھی علم ہے کہ ایسے لوگ بھی دنیا میں ہیں جو ایک بندے کی پرستش کرتے ہیں“۔( خطبات محمود جلد 8 ص 19) میں اب خطبہ کے ذریعہ تمام احمدی عورتوں کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ اس کام کے لئے تین ماہ کے اندر پچاس ہزار روپیہ چندہ جمع کر دیں۔ہاں یہ یادر ہے کہ مردوں کا ایک پیسہ بھی اس کام میں نہیں لیا جائے گا۔اگر کسی مرد کی طرف سے چندہ آگیا تو وہ کسی اور مد کی طرف منتقل کر دیا جائے گا۔اس میں صرف عورتوں کا ہی روپیہ ہوگا تا کہ یہ مسجد ہمیشہ کے لئے عورتوں کی ہی یادگار رہے۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عورتوں کو اس کام کی تو فیق عطا کرے۔( خطبات محمود جلد 8 ص21) اس تحریک نے احمدی خواتین کا مطمح نظر بلند کر کے ان میں اخلاص و قربانی اور فدائیت اور للہیت کا ایساز بر دست ولولہ پیدا کر دیا کہ (متحدہ) ہندوستان کی اسلامی تاریخ میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی اور اگر