خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 139 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 139

139 سماٹرا، جاوا، روس، امریکہ غرضیکہ دنیا کے کسی ملک میں ہوسکتا ہے۔میری تجویز ہے کہ دو دو آدمی تین نئے ممالک میں بھیجے جائیں۔ان میں سے ایک ایک انگریزی دان ہو اور ایک ایک عربی دان۔سب سے پہلے تو ایسے آدمی تلاش کئے جائیں جو کچھ حصہ خرچ کا لے کر حسب ہدایت کام کریں۔مثلاً صرف کرایہ لے لیں۔آگے خرچ کچھ نہ مانگیں۔یا کرایہ خود ادا کریں۔خرج سات ماہ کے لئے ہم سے لے ں۔۔۔اس تحریک کے لئے خرچ کا اندازہ میں نے دس ہزار روپے لگایا ہے۔3 تبلیغ کی ایک سکیم میرے ذہن میں ہے جس پر سوروپیہ ماہوار خرچ ہوگا۔4۔پانچ آدمی بھیج کر ملک کی تبلیغی سروے کرائی جائے۔ان کی تنخواہ اور سائیکلوں وغیرہ کی مرمت کا خرچ ملا کر سوروپیہ ماہوار ہو گا اور اس طرح کل رقم جس کا مطالبہ ہے ، ساڑھے ستائیس ہزار بنتی ہے۔( خطبات محمود جلد 15 صفحہ 432 تا 436) اس تحریک کی تمام شقوں پر جماعت نے حیرت انگیز طور پر لبیک کہا اور ایک نئی زندگی پا کر دشمن کو انگشت بدنداں کر دیا۔چنانچہ حضرت مصلح موعودؓ نے جماعت سے تین سال کے عرصہ میں ساڑھے ستائیس ہزار روپے کی رقم مانگی اور اس نے پہلے سال ہی ڈیڑھ ماہ کے اندر اندر 29712 روپے نقد حضور کے قدموں میں لاکر رکھ دیئے۔مجموعی طور پر اس سال جماعت کی طرف سے ایک لاکھ تین ہزار روپے وصول ہوئے۔دوسرے سال وصولی ایک لاکھ دس ہزار تھی۔تیسرے سال ایک لاکھ چالیس ہزار کی رقم وصول ہوئی گویا ساڑھے ستائیس ہزار روپے کے مطالبہ کے مقابل تین لاکھ تریپن ہزار روپے کی رقم پیش کی گئی۔حضور نے جماعت کے اس جذ بہ قربانی پر خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا۔” میں نے روپیہ کے متعلق جو تحریک کی تھی۔اس کا جواب جو جماعت کی طرف سے دیا گیا ہے وہ اتنا خوش آئند ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے یہ خیال نہیں کیا جاسکتا کہ باقی حصہ سکیم میں جماعت کمزوری دکھلائے گی“۔قادیان کی جماعت کے متعلق فرمایا: ( خطبات محمود جلد 16 ص5) ”قادیان کی جماعت سارے پنجاب کا دسواں حصہ ہے۔لیکن ساڑھے ستائیس ہزار روپیہ کی تحریکات میں قادیان کی جماعت کی طرف سے پانچ ہزار روپیہ نقد اور وعدوں کی شکل میں آیا ہے۔