خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 140
140 اور یہ رقم صرف پہلے سال کے لئے تھی باقی دو سالوں کی رقم اس کے علاوہ ہے۔ناقل ) دائمی تحریک الفضل 20 دسمبر 1935 ء ) تین سال کے بعد اس تحریک کو سات سال کے مزید عرصہ کے لئے بڑھا دیا گیا۔گویا پہلے تین سالوں کو ملا کر یہ تحر یک دس سال کے لئے کر دی گئی۔اس نئے دور کو سات سال تک کے عرصہ تک محدود رکھنے کے متعلق حضور نے فرمایا: قربانیاں کئی رنگ میں کرنی پڑتی ہیں۔موجودہ مالی سکیم کو میں نے سات سال تک کے لئے مقرر کیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ بعض پیشگوئیوں سے معلوم ہوتی ہے کہ 42،43 ء تک زمانہ ایسا ہے جس تک سلسلہ احمدیہ میں بعض مالی مشکلات جاری رہیں گی۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایسے حالات پیدا کر دے گا کہ بعض قسم کے ابتلاء دور ہو جائیں گے اور اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے نشانات ظاہر ہو جائیں گے کہ جن کے نتیجہ میں بعض مقامات کی تبلیغی روکیں دور ہو جائیں گے اور سلسلہ احمد یہ ترقی کرنے لگ جائے گا“۔حضور نے قربانی کے اس مطالبہ پر لبیک کہنے والوں کو ان الفاظ میں بشارت دی کہ حضرت مسیح موعود یہ دعا کر چکے ہیں کہ اے خدا وہ شخص جو میرے دین کی خدمت میں حصہ لے تو اس پر اپنے فضلوں کی بارش نازل فرما اور آفات اور مصائب سے اسے محفوظ رکھ پس وہ شخص جو اس تحریک میں حصہ لے گا اسے حضرت مسیح موعود کی دعا سے بھی حصہ ملے گا اور پھر وہ میری دعاؤں میں بھی حصہ دار ہو جائے گا“۔( الفضل 4 دسمبر 1937ء) اس دس سالہ دور کے ختم ہونے پر حضور نے نہ صرف اس تحریک کو انہیں سال کے عرصہ تک بڑھا دیا۔بلکہ ایک نئی پانچ ہزاری فوج کو بھی آگے آنے کے لئے ارشاد فرمایا۔جو نئے سرے سے اس تحریک میں حصہ لے کر ایک دوسرے انیس سالہ دور کی بنیا در کھے۔حضور نے ان کا حساب علیحدہ علیحدہ رکھنے کا ارشاد فرمایا۔1953ء میں جب یہ انیس سالہ دور ختم ہوا تو حضور نے اس سکیم کو دائمی قرار دے دیا اور 27 نومبہ