خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 114
114 اور فرمایا:۔اس جو بلی کی یادگار کا اس کو حصہ ہی قرار دے لو کہ تمام بالغ احمدی خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں کوشش تو یہ کریں کہ ہمیشہ تہجد پڑھیں لیکن اگر ہمیشہ اس پر عمل نہیں کر سکتے تو جمعہ کی رات مخصوص کر لیں اور سب اللہ تعالیٰ کے حضور متفقہ طور پر دعائیں مانگیں۔( الفضل 11 جون 1931 ء، خطبات محمود جلد 13 ص 183,175 ) حضور نے 12 جون 1931ء کو جمعہ کی رات میں التزام سے تہجد پڑھنے کی تلقین کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار فرمایا کہ اگر جماعت یہ نیکی بطور یادگار پیدا کرے تو عرش الہی ہل جائے گا اور دہریت کی رو جو اس وقت دنیا میں جاری ہے رک جائے گی اور بے دینی و الحاد کو شکست ہو جائے گی اور اللہ کی رحمتوں کا نزول شروع ہو جائے گا“۔(الفضل 18 جون 1931ء۔خطبات محمود جلد 13 ص189) يوم التبليغ کا آغاز سیدنا حضرت خلیفہ لمسیح الثانی خصوصاً پچھلے کئی سالوں کی جماعت کو اس کی تبلیغی ذمہ داریوں کی طر ف توجہ دلا رہے تھے اور گو اس کا نتیجہ بھی نہایت خوشکن نکل رہا تھا اور خدا کے فضل سے جماعت سُرعت سے ترقی بھی کر رہی تھی مگر چونکہ یہ ترقی نسبتی تھی اور ابھی جماعت کے بہت سے احباب حقیقی طور پر تبلیغ کی طرف متوجہ نہیں ہوئے تھے اس لئے حضور نے 1932 ء کے آغاز میں جماعت کو نہایت جوش سے تبلیغ کرنے کے تحریک فرمائی۔چنانچہ 8 جنوری 1932ء کو خطبہ جمعہ کے دوران ارشاد فرمایا کہ: ضروری ہے کہ ہم پہلے سے بھی زیادہ جوش اور اخلاص کے ساتھ کام کریں کیونکہ جب تک ہر سال لاکھوں آدمی ہماری جماعت میں شامل نہ ہوں گے۔اس وقت تک ہم پورے طور پر ترقی نہیں کر سکیں گے۔بالعموم پہلی صدی ہی ایسی ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت دنیا میں وسیع طور پر پھیل جاتی ہے اور ہم یہ ترقی حاصل نہیں کر سکتے جب تک لاکھوں آدمی ہر سال ہماری جماعت میں شامل نہ ہوں۔۔۔الہی سلسلہ کی پہلی صدی میں تبلیغ کا کام تو دوستوں کے سپرد ہوتا ہے اور تربیت کا کام دشمنوں کے سپر د مگر بعد کی صدیوں میں چونکہ دشمن کم ہو جاتے ہیں اور دشمنوں کے شدائد کی کمی کی وجہ سے تربیت میں نقص آ جاتا ہے اس لئے اُس وقت بہت سے جھگڑے پیدا ہونے شروع ہو جاتے