خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 113
113 جس کا اعلان حضور نے شروع 1891ء میں ”فتح اسلام میں فرمایا۔اس لحاظ سے 1931ء کے آغاز میں جماعت احمدیہ کی عمر چالیس سال تک پہنچ گئی اور بلوغت تامہ کا پہلا درجہ جماعت کو حاصل ہوا۔یہ چالیس سالہ دور اس شان سے گزرا کہ اس کی ہر دہائی میں احمدیت کو فتح نصیب ہوئی۔پہلے دس سال میں مسیحیت و مجددیت کے خلاف اٹھنے والے طوفان کا رخ پلٹا گیا۔دوسرے دس سال میں اللہ تعالیٰ نے نبوت کی تشریح و توضیح کا سامان فرمایا۔تیسرے دس سال میں نظام خلافت کو تقویت حاصل ہوئی اور چوتھے دس سال میں بیرونی ممالک میں بکثرت احمد یہ مشن قائم ہوئے اور سلسلہ کی عالمگیر ترقی کی بنیادیں رکھ دی گئیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے خدا تعالیٰ کی اس غیر معمولی تائید و نصرت پر جذبات تشکر ظاہر کرنے کے لئے 5 جون 1931ء کو ایک اہم خطبہ جمعہ پڑھا اور ارشاد فرمایا کہ یہ ایک قسم کی جو بلی ہے کیونکہ پچاس سال کا عمر پا جانا بڑی خوشی کی بات ہوا کرتی ہے۔مگر پہلی بلوغت چالیس سالہ ہے اور ہمیں سب سے پہلے اس بلوغت کے آنے پر اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ باوجود دشمنوں کی کوششوں کے ہماری جماعت چالیس سال کی عمر تک پہنچ گئی اور میں سمجھتا ہوں ہمیں خاص طور پر اس تقریب پر خوشی منانی چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے قوانین میں سے ایک قانون یہ بھی ہے کہ اگر بندہ اس کی نعمت پر خوشی محسوس نہیں کرتا تو وہ نعمت اس سے چھین لی جاتی ہے اور اگر خوشی محسوس کرے اور اللہ تعالیٰ کی حمد کرے تو زیادہ زور سے اللہ تعالیٰ کے فیضان نازل ہوتے ہیں۔پس میرا خیال ہے ہم کو اس سال چالیس سالہ جو بلی منانی چاہئے“۔اس چہل سالہ جو بلی کی بہترین صورت آپ نے یہ بیان فرمائی کہ: ”سب سے بڑی جو بلی یہ ہے کہ ہم سال حال تبلیغ کے لئے مخصوص کر دیں اور اتنے جوش اور زور کے ساتھ تبلیغ میں مصروف ہو جائیں کہ ہر جماعت اپنے آپ کو کم از کم دگنی کرے یہ جو بلی ایسی ہوگی جو آئندہ نسلوں میں بطور یادگار رہے گی۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے اپنی یادگاروں کے قیام کے لئے اینٹوں ، پتھروں اور چونے کے محتاج نہیں ہوتے بلکہ وہ دنیا میں روحانیت قائم کرنا چاہتے ہیں اور یہی ان کی بہترین یادگار ہوتی ہے کہ اس مقصد کو پورا کر دیا جائے جس کے لئے وہ دنیا میں مبعوث ہوئے۔