تحریک وقف نو — Page 50
91 90 جن کو یہ سہولت حاصل ہو تعلیمی اداروں میں اس طرف توجہ کر سکیں ان کو بھی میری یہی نصیحت ہے کہ وہ توجہ کریں لیکن یہ جو نئے پیدا ہونے والے بچے ہیں ایسے ملکوں میں جہاں چینی اور روی زبان سکھانے کی سہولتیں موجود ہیں ان کو بچپن سے ان کو سکھانا چاہئے اور ان کی ایمبیسی سے رابطہ کر کے اگر کچھ کیسٹس وغیرہ سیا کی جاسکیں ، ویڈیوز مہیا کی جاسکیں، بچوں کے چھوٹے چھوٹے رسالے کہانیوں کی کتابیں وغیرہ یہ مہیا کی جائیں تو بہت بچپن سے اگر زبان سکھائی جائے تو وہ اتنے گہرے نقش دماغ پر قائم کر دیتی ہے کہ اس کے بعد بچے اہل زبان کی طرح بول سکتے ہیں۔اور بڑی عمر میں سیکھی ہوئی زبان خواہ آپ کتنی محنت کریں وہ اہل زبان جیسی زبان نہیں بنتی، طوعی اور فطری طور پر جو ذہن سوچتا ہے وہ بچپن سے اگر سیکھی ہوئی زبان ہے تو وہ سوچ اس کی بے ساختہ ہوتی ہے۔قدرتی اور طوعی ہوتی ہے لیکن اگر بعد میں زبان سیکھی جائے تو سوچ پر کچھ نہ کچھ قدغن رہتی ہے کچھ نہ کچھ پابندیاں رہتی ہیں۔اور پھونک پھونک کر قدم آگے بڑھانا پڑتا ہے بعض لوگ نسبتا" تیز بھی بڑھاتے ہیں بعض آہستہ مگر جو طبیعی فطری روانی ہے وہ پیدا نہیں ہو سکتی اس لئے اہل زبان بنانے کیلئے بہت بچپن سے زبان سکھانی پڑتی ہے۔اگر پنکھوڑوں میں زبان سکھائی جائے تو یہ بھی بہت اچھا ہے، بلکہ سب سے اچھا ہے۔ایسی اگر دائی مل جائے نرس مل جائے اور جو توفیق رکھ سکتے ہیں نرسوں کے رکھنے کی وہ رکھیں۔جو چینی نرس ہو تو بچوں کو بچپن سے گود میں کھلاتے کھلاتے ہی چینی زبان سکھا سکتی ہے۔روی زبان جاننے والی اہل زبان کوئی عورت مل جائے تو بچے اس کے سپرد کئے جا سکتے ہیں۔یہ تو باتیں حسب توفیق ہو گی مگر جن کو توفیق ہے ان کو چاہئے کہ وہ بہت بچپن سے اپنے بچوں کو چینی اور روسی زبان سکھانے کی کوشش کریں۔اس سلسلے میں میں کوئی پابندی نہیں لگا تا کہ ہمیں سو (۱۰۰) کی ضروت ہے یا ہزار کی ضرورت ہے۔واقعہ یہ ہے کہ یہ اتنی بڑی قومیں ہیں اور ان کو اتنی عظمت حاصل ہے اس وقت دنیا میں۔کہ اگر یہ دونوں قومیں مثلا" دنیاوی لحاظ سے اکٹھی ہو جائیں تو ساری دنیا میں طاقت کا توازن بگڑ جائے یعنی ان کے حق میں ہو جائے اور باقی دنیا کے خلاف ہو جائے اور بہت سی بڑی بڑی سیاسی تبدیلیاں پیدا ہو جائیں۔ان کا اس وقت الگ الگ ہونا ہی بعض قوموں کیلئے خوش قسمتی ہے اور وہ زبردستی بھی دخل اندازی کر کے اس خوش قسمتی کو بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔اور بعض دفعہ غلطیاں کرتے ہیں اور الٹے نتیجہ نکلتے ہیں۔مگر جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہمیں ان کے لڑنے یا نہ لڑنے دشمنی یا دوستی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔(دین) حق) دونوں کیلئے برابر ہے اور ہم نے جو دین حق) کا پیغام پہنچاتا ہے اس کیلئے ہمیں زبان دانوں کی ضرورت ہے ہر قسم کے زبان دانوں کی ضرورت ہے جو تحریر کی مشق بھی رکھتے ہوں، بولنے کی مشق بھی رکھتے ہوں، ترجموں کی طاقت بھی رکھتے ہوں تصنیف کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں، اس لئے جتنے بھی ہوں کم ہوں گے۔یعنی ایک ارب کے لگ بھگ یا اس سے زائد اب چین کی آبادی ہے اور روس اور روسی زبان جانے والوں کی آبادی بھی بہت وسیع ہے۔مجھے اس وقت پوری طرح یاد تو نہیں لیکن پچاس کروڑ سے زائد ہوں گے جو روسی زبان جاننے والے بوگ ہیں بولنے والے اس لئے اگر سارے کا تعین بھی یہ زبان سیکھ لیں تو وہ کوئی زیادہ نہیں ہو گا مردوں کو بھی سکھائیں بچوں کو بھی سکھائیں لیکن بیٹیوں کو خصوصیت سے کیونکہ علمی کام میں ہمیں واقفین بیٹیاں بہت کام آسکتی ہیں۔انہوں نے میدان میں بھی جاتا ہوگا لیکن وہ تصانیف کریں گی وہ گھر بیٹھے ہر قسم کی خدمت کے کام اس طرح کر سکتی ہیں کہ اپنے خاوندوں سے ان کو الگ نہ ہونا پڑے اس لئے ان کو ایسے کام سکھانے کی خصوصیت سے ضرورت ہے۔بچوں کو تو ہم سنبھال لیں گے ہم ان کو کسی