تحریک وقف نو — Page 51
93 92 جامعہ میں داخل کریں گے کسی خاص ملک میں ان کا تعین ہوگا تو اس زبان کا ان کو ماہر بنانے کی کوشش کی جائے گی لیکن بچوں پر ہمارا ایسا اختیار نہیں ہو سکتا نہ مناسب ہے نہ اسلام اس کی اجازت دیتا ہے کہ اس طرح بچپن میں ان کو الگ کر کے پوری طرح جماعتی نظام کے تابع کیا جائے اس لئے والدین کا دخل بچیوں پر لازما جاری رہے گا یا بعد میں ان کے خاوندوں کا اس لئے اگر وہ زبانیں سیکھ لیں تو گھر بیٹھے بڑی آرام سے خدمت کر سکتی ہیں اور جب زبانیں سیکھیں تو جس وقت ان کے اندر صلاحیت پیدا ہو ان کو پھر ان زبانوں میں ٹائپ کرنا بھی سکھایا جائے۔اور ان زبانوں کا لٹریچر ان کو پڑھایا جائے یہ نہ سمجھیں کہ زبان بولنا چالنا کافی ہوتا ہے یا لکھنے پڑھنے کا سلیقہ آجائے تو یہ کافی ہے لٹریچر جتنا زیادہ پڑھا جائے اتنا ہی زیادہ زبان میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔اس لئے پھر کثرت کے ساتھ ان کو رشین کلاسیکل ناول پڑھانے پڑیں گے۔رشین کلاسیکل مضامین کلاسیکل شعراء ماڈرن شعر ، اور یہی حال چینی زبان میں بھی ہوگا تاکہ بچپن سے ہی ان کا علمی ذخیرہ اتنا وسیع ہو جائے کہ بڑی سہولت کے ساتھ ، ایک فطری رو کے ساتھ از خود علمی کاموں میں آگے بڑھتے چلے جائیں میں امید رکھتا ہوں کہ واقفین زندگی اس پیغام کو اچھی طرح ذہن نشین کریں گے اور آخری بات یہی ہے پھر بھی کہ اس کے ساتھ ان کی عظمت کردار کیلئے ابھی سے کوشش شروع کر دیں بچپن میں کردار بنائے جاتے ہیں دراصل اگر تاخیر ہو جائے تو بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔محاورہ ہے کہ لوہا گرم ہو تو اس کو موڑ لیتا چاہئے لیکن یہ جو بچپن کا لوہا ہے یہ خدا تعالٰی ایک لیے عرصے تک نرم ہی رکھتا ہے اور اس نرمی کی حالت میں اس پر جو نقوش آپ قائم کر دیتے ہیں وہ دائی ہو جایا کرتے ہیں اس لئے یہ وقت ہے تربیت کا اور تربیت کے مضمون میں یہ بات یاد رکھیں کہ ماں باپ جتنی چاہیں زبانی تربیت کریں اگر ان کا کردار ان کے قول کے مطابق نہیں تو بچے کمزوری کو لے لیں گے اور مضبوط پہلو کو چھوڑ دیں گے یہ دو نسلوں کے رابطے کے وقت ایک ایسا اصول ہے جس کو بھلانے کے نتیجے میں قومیں ہلاک بھی ہو سکتی ہیں اور یاد رکھنے کے نتیجے میں ترقی بھی کر سکتی ہیں۔ایک نسل اگلی نسل پر جو اثر چھوڑا کرتی ہے اس میں گویا یہ اصول کار فرما ہوتا ہے کہ بچے ماں باپ کی کمزوریوں کو پکڑنے میں تیزی کرتے ہیں اور ان کی باتوں کی طرف کم توجہ کرتے ہیں اگر باتیں عظیم کردار کی ہوں اور بیچ میں سے کمزوری ہو تو بچہ بیچ کی کمزوری کو پکڑے گا اس لئے یاد رکھیں کہ بچوں کی تربیت کیلئے آپ کو اپنی تربیت ضرور کرتی ہوگی۔ان بچوں کو آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ بچو! تم سچ بولا کرو ، تم نے مبلغ بینا ہے۔تم بد دیانتی نہ کیا کرو ، تم نے مبلغ بننا ہے۔تم غیبت نہ کیا کرو۔تم لڑا جھگڑا نہ کرو۔اور یہ باتیں کرنے کے بعد پھر ماں باپ ایسا لڑیں جھگڑیں، پھر ایسی مغلقات بکیں ایک دوسرے کے خلاف ایسی بے عزتیاں کریں کہ وہ کہیں کہ بچے کو تو ہم نے نصیحت کر دی اب ہم اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں۔یہ نہیں ہو سکتا جو ان کی اپنی زندگی ہے وہی بچے کی زندگی ہے۔جو فرضی زندگی انہوں نے بنائی ہوئی ہے کہ یہ کرو! بچے کو کوڑی کی بھی اس کی پرواہ نہیں ایسے ماں باپ جو جھوٹ بولتے ہیں وہ لاکھ بچوں کو کہیں کہ جب تم جھوٹ بولتے ہو تو بڑی تکلیف ہوتی ہے تم خدا کیلئے سچ بولا کرو سچائی میں زندگی ہے بچہ کہتا ہے ٹھیک ہے یہ بات لیکن اندر سے وہ سمجھتا ہے کہ ماں باپ جھوٹے ہیں اور وہ ضرور جھوٹ ہوتا ہے۔اس لئے وہ نسلوں کے جھوڑ کے وقت یہ اصول کار فرما ہوتا ہے اور اس کو نظر انداز کرنے کے نتیجے میں آپس میں خلا پیدا ہو جاتے ہیں۔جن یورپین ممالک میں میں نے سفر کیلئے ہیں ہر ایک یہ شکایت کرتا ہے کہ ہماری نسل اور اگلی نسل کے درمیان ایک خلا پیدا ہو گیا ہے اور میں ان کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ یہ خلا تم نے پیدا کیا ہے تم