تحریک وقف نو — Page 28
47 46 ایسے بگڑتے ہیں کہ ٹھیک ہو ہی نہیں سکتے عموماً وہ یہ کام شروع کر دیتے ہیں یعنی جھوٹ نہیں ہوا کرتا ، عادت ہے کہ تخمینے یا اندازے کو حقیقت بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے۔تو ایسے واقفین اگر جامعہ میں آجائیں گے تو جامعہ میں تو کوئی ایسا جادو نہیں ہے کہ پرانے بگڑے ہوئے رنگ اچانک درست ہو جائیں۔ایسے رنگ درست ہوا کرتے ہیں غیر معمولی اندرونی انقلابات کے ذریعہ۔وہ ایک الگ مضمون ہے۔ہم ایسے انقلابات کے امکانات کو تو نہیں کر سکتے لیکن یہ دستور عام نہیں ہے۔اس لیے ہم جب حکمت کے ساتھ اپنی زندگی کے پروگرام بناتے ہیں تو اتفاقات پر نہیں بنایا کرتے بلکہ دستور عام پر بنایا کرتے ہیں۔پیس اس پہلو سے بچوں کو بہت گہری تربیت دینے کی ضرورت ہے۔پھر عمومی تعلیم میں واقفین بچوں مالی امور میںخصوصی احتیاط کی تعلیم کی بنیاد ویسی کرن کی خاطر اپ کی جو ٹائپ ، سیکھ سکتے ہیں ان کو ٹائپ سکھانا چاہیے۔اکاؤنٹس رکھنے کی تربیت دینی چاہیئے دیانت پر جیسا کہ میں نے کہا تھا بہت زور ہونا چاہیے۔اموال میں خیانت کی جو کمزوری ہے۔یہ بہت ہی بھیانک ہو جاتی ہے اگر واقفین زندگی میں پائی جائے۔اس کے بعض دفعہ نہایت ہی خطرناک نتائج نکلتے ہیں۔وہ جماعت جو خالصتا طوعی پھندوں پر چل رہی ہے اس میں دیانت کو اتنی غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔گویا دیانت کا ہماری شاہ رگ کی حفاظت سے تعلق ہے۔سارا مانی نظام جو جماعت احمدیہ کا جاری ہے وہ اعتماد اور حیات کی وجہ سے بھاری ہے۔اگر خدانخواستہ جماعت میں یہ احساس پیدا ہو گیا کہ واقفیق زندگی اور سلسلہ کے شعبہ اموال میں کام کر نیوالے خود بد دیانت ہیں تو ان کو چندے دینے کی جو توفیق نصیب ہوتی ہے اس توفیق کا گلا گھونٹا جائے گا۔لوگ چاہیں گے بھی تو پھر بھی انکو واقعہ چندہ دینے کی توفیق نہیں ملے گی۔اس لیے واقفین کو خصوصیت کے ساتھ الی لحاظ سے بہت ہی درست ہوتا چاہیے اور اس لحاظ سے اکاؤنٹس کا بھی ایک گہرا تعلق ہے جو لوگ اکاؤنٹس نہیں رکھ سکتے ان سے بعض دفعہ مالی غلطیاں ہو جاتی ہیں اور دیکھنے والا سمجھتا ہے کہ بددیانتی ہوئی ہے۔اور بعض دفعہ مالی غلطیوں کے نتیجہ میں وہ لوگ جنکوا کا خوش کا طریقہ نہ آتا ہو ید دیانتی کرتے ہیں اور افسر متعلقہ اس میں ذمہ دار ہو جاتا ہے۔وہ لوگ جو اموال پر مقرر ہیں خدا تعالیٰ کے فضل سے ان کا مالی لحاظ سے دیانت کا معیار جماعت احمدیہ میں اتنا بلند ہے کہ دنیا کی کوئی جماعت بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔لیکن خرابیاں پھر بھی دکھائی دیتی ہیں۔عمداً بد دیانتی کی مثالیں تو بہت شاذ ہیں یعنی انگلیوں پر گینی جاسکتی ہیں لیکن ایسے واقعات کی مثالیں بہت سی ہیں (یعنی بہت سی سے مراد یہ ہے کہ مقابلہ بہت ہیں ) کہ جن میں ایک شخص کو حساب رکھنا نہیں آتا ، ایک شخص کو یہ نہیں پتہ کہ میں دستخط کرنے لگا ہوں تو اسکے نتیجہ میں میری کیا ذمہ داری ہے ؟ مجھے کیا دیکھنا چاہیے ؟ جس کو جمع تفریق نہیں آتی اس بیچارے کے نیچے بعض دفعہ بد دیا نگیان ہو جاتی ہیں اور بعد میں پھر الزام اس پر لگتے ہیں اور بعض دفعہ تحقیق کے نتیجہ میں وہ تمبری بھی ہو جاتا ہے۔بعض دفعہ معاملہ اٹھا ہی رہتا ہے پھر ہمیشہ ایہام باقی رہ جاتا ہے کہ پتہ نہیں بددیانت تھا یا نہیں۔اس لیے اکاؤنٹس کے متعلق تمام واقفین بچوں کو شروع سے ہی تربیت دینی چاہئیے۔تبھی میں نے حساب کا ذکر کیا تھا کہ ان کا حساب بھی اچھا ہو اور ان کو بچپن سے تربیت دی جائے کہ کس طرح اموال کا حساب رکھا جاتا ہے۔روز مرہ سودے کے ذریعہ سے نہی ان کو یہ تربیت دی جاسکتی ہے۔اور پھر سودا اگر ان کے ذریعے کبھی منگولیا جائے تو اس سے انکی دیانتداری کی نوک پلک مزید درست کی جاسکتی ہے۔مثلاً بعض بچوں سے ماں باپ سودا منگواتے ہیں تو وہ چند پیسے جو بچتے ہیں وہ جیب میں رکھ دیتے ہیں ، بد دیانتی کے طور پر نہیں اُن کے ماں باپ کا مال ہے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ