تحریک وقف نو

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 27 of 65

تحریک وقف نو — Page 27

45 44 جن کو یہ حوصلہ ہو کہ وہ مخالفانہ بات سنیں اور تحمل کا ثبوت دیں۔جب ان سے کوئی بات پوچھی جائے تو تحمل کا ایک یہ بھی تقاضا ہے کہ ایک دم منہ سے کوئی بات نہ نکالیں بلکہ کچھ غور کر کے جواب دیں۔یہ ساری ایسی باتیں ہیں جو بچپن ہی سے طبیعتوں میں اور عادتوں میں رائج کرنی پڑتی ہیں۔اگر بچپن سے یہ عادتیں پختہ نہ ہوں تو بڑے ہو کر بعض دفعہ ایک انسان علم کے ایک بہت بلند معیار تک پہنچنے کے باوجود بھی ان عام سادہ سادہ باتوں سے محروم رہ جاتا ہے۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب کسی سے کوئی سوال کیا جاتا ہے تو قوراً جواب دیتا ہے خواہ اس بات کا پتہ ہو یا نہ ہو۔پھر بعض دفعہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ ایک بات پوچھی اور جس شخص سے پوچھی گئی ہے اس کے علم میں یہ تو ہے کہ یہ بات ہونے والی تھی لیکن یہ علم میں نہیں ہے کہ ہو چکی ہے۔اسکے باوجود بسا اوقات وہ کہہ دیتا ہے کہ ہاں ہو چکی ہے۔واقفین زندگی کے اندر یہ چیز بہت بڑی خرابی پیدا کر سکتی ہے۔میں نے اپنے انتظامی تجربہ میں بارہا دیکھا ہے کہ اس قسم کی خبروں سے بعض دفعہ بہت سخت نقصان پہنچ جاتا ہے مثلاً لنگر خانے میں میں تنا ظلم ہوتا تھا تو فون پر پوچھا کہ اتنے ہزار روٹی پک چکی ہے ؟ تو جواب ملا کہ جی ہاں پک چکی ہے۔اس پر تسلی ہو گئی۔جب وہاں پہنچا تو پتہ لگا کہ ابھی کئی ہزار کی کمی ہے۔میں نے کہا آپ نے یہ کیا ظلم کیا ہے، یہ جھوٹ بولا ، غلط بیانی کی اور اس سے بڑا نقصان پہنچا ہے وہ آدھا گھنٹہ کام ہی نہیں ہو رہا تھا۔تو یہ عادت عام ہے۔میں نے اپنے وسیع تجر ہے میں دیکھا ہے کہ ایشیا میں خصوصیت کے ساتھ یہ علوت بہت زیادہ پائی جاتی ہے کہ ایک چیز کا اندازہ لگا کر اس کو واقعات کے طور پر بیان کر دیتے ہیں اور واقفین زندگی میں بھی یہ عادت آجاتی ہے یعنی جو پہلے سے واقفین آئے ہوئے ہیں ان کی رپورٹوں میں بھی بعض دفعہ ایسے نقص نکلتے ہیں جس کی وجہ سے جماعت کو نقصان پہنچتا ہے۔اس لیے اس بات کی بچپن سے عادت ڈالنی چاہئیے کہ جتنا علم ہے اس کو علم کے طور پر بیان کریں یقینا اندازہ ہے اس کو اندازے کے طور پر بیان کریں۔اور اگر بچپن میں آپ نے یہ عادت نہ ڈال تو بڑے ہو کر پھر دوبان بڑی عمر میں اسے رائج کرتا بہت مشکل کام ہوا کرتا ہے کیونکہ ایسی باتیں انسان بغیر سوچے کرتا ہے۔عادت کا مطلب ہی یہ ہے کہ خود بخود منہ سے ایک بات نکلتی ہے اور یہ بے احتیاطی بعض دفعہ پھر انسان کو جھوٹ کی طرف بھی لے جاتی ہے اور بڑی مشکل صورت حال پیدا کر دیتی ہے۔کیونکہ ایسے لوگوں میں سے بہت سے میں نے ایسے دیکھتے ہیں کہ جب ان سے پوچھا جائے کہ آپ نے یہ کیوں کیا تو بجائے اس کے کہ وہ صاف صاف بیان کریں کہ ہم سے غلطی ہوگئی ہم نے اندازہ لگایا تھا، وہ اپنی پہلی غلطی کو چھپانے کے لیے دوسری دفعہ پھر جھوٹ بولتے ہیں اور کوئی ایسا مندر تلاش کرتے ہیں جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔جب اس مندر کو پکڑیں تو پھر ایک اور جھوٹ کہنے لگے کہ نہیں جی جب میں نے بات کی تھی اس سے آدھا گھنٹہ پہلے اتنے ہزار ہو چکی بولتے ہیں۔خجالت الگ ، شرمندگی الگ ، سب دنیا ان پر ہنس رہی ہوتی ہے اور وہ تھی تو آدھے گھنٹے میں اتنی تو ضرور بننی چاہیئے تھی۔یہ فارمولا تو ٹھیک ہے۔لیکن واقعاتی بیچارے جھوٹ پر جھوٹ بول کر اپنی عزت بچانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔یہ چیزیں بچپن سے شروع ہوتی ہیں۔چھوٹے چھوٹے بچے جب کسی بات پر گھر میں پکڑے جاتے ہیں کہ آپ نے یہ کہا تھا یہ نہیں ہوا، اس وقت وہ ایسی حرکتیں کرتے ہیں اور ماں باپ اُس کا نوٹس نہیں لیتے۔اس کے نتیجہ میں مزاج بگڑ جاتے ہیں اور پھر بعض دفعہ دنیا میں فارمولے تو نہیں چلا کرتے۔واقعہ ایسی صورت میں یہ بات نکلی کہ وہاں کچھ خرابی پیدا ہوگئی۔مزدوروں کی آپس میں کوئی لڑائی ہوگئی ، گیس بند ہو گئی کئی قسم کی خرابیاں ایسی پیدا ہو جاتی تھیں تو جس آدھے گھنٹے میں اس نے کئی ہزار کا حساب لگایا ہوا تھا