تحریک وقف نو — Page 29
49 48 یہ پیسے کیا واپس کرتے ہیں۔وہ وقت ہے تربیت کرنے کا۔اس وقت ان کو کہنا ں کرنی چاہیے کہ سودا منگوانے میں اگر ایک دھیلا، ایک دمڑی بھی باقی بچی ہو تو واپس چاہیے۔پھر چاہے دھیلے کی بجائے دس روپے مانگو اسکا کوئی حرج نہیں۔لیکن بغیر بتائے کے جو دھیلا جیب میں ڈالا جاتا ہے کہ یہ بچ گیا تھا اس کا کیا واپس کرتا تھا۔اس نے آئندہ بد دیانتی کے بیج بو دیے ہیں ، آئندہ بے احتیاطیوں کے بیج بو دیتے ہیں۔تو وہیں جو گویا تی اور بنتی ہیں وہ در اصل گھروں میں ہی بگڑتی اور بنتی ہیں۔ماں باپ اگر باریک نظر سے اپنے بچوں کی تربیت کر رہے ہوں تو وہ عظیم مستقبل کی تعمیر کر رہے ہوتے ہیں سے گولی چلائی جائے اتنی دیر تک سیدھی رہتی ہے۔خدام کی حد تک اگر تربیت کی نالی لمبی ہو جائے تو خدا کے فضل سے پھر موت تک وہ انسان سیدھا ہی چلے گا إِلا ما شاء اللہ۔تو اس پہلو سے بہت ضروری ہے کہ نظام کا احترام سکھایا جائے۔پھر اپنے گھروں میں کبھی ایسی بات نہیں کرنی چاہیئے جس سے نظام جماعت کی تخفیف ہوتی ہو یا کسی عہدیدار کے خلاف شکوہ ہو۔وہ شکوہ اگر سچا بھی ہے پھر بھی اگر وہ آپ نے اپنے گھر میں کیا تو آپکے بچے ہمیشہ کیلئے اس سے زخمی ہو جائیں گے۔آپ تو شکوہ کرنے کے باوجود اپنے ایمان کی حفاظت کر سکتے ہیں لیکن آپ کے بچے زیادہ گہراز خم محسوس یعنی بڑی شاندار تو میں ان کے گھروں میں تخلیق پاتی ہیں۔لیکن یہ چھوٹی چھوٹی بے احتیاطیاں کریں گئے۔یہ ایساز خم ہوا کرتا ہے کہ جس کو لگتا ہے، اسکو کم لگتا ہے جو قریب کا دیکھتے بڑے بڑے عظیم اور بعض دفعہ سنگین نتائج پہ منتج ہو جایا کرتی ہیں۔پس مالی لحاظ سے واقفین بچوں کو تقویٰ کی باریک راہیں سکھائیں۔یہ جتنی باتیں میں کہہ رہا ہوں ان سب کا اصل میں تقویٰ ہی سے تعلق ہے۔تو تقوی کی کچھ موٹی راہیں ہیں جو عام لوگوں کو آتی ہیں۔کچھ مزید باریک راہیں ہیں اور واقفین کو ہمیں نہایت لطیف رنگ میں تقوی کے تربیت دینی چاہیئے۔ٹھوکر سے بچا نیوالی بعض ضروری احتیاطیں اس کے علاوہ واقفین بیچوں میں سخت جانی کی عادت ڈالنا ، نظام جماعت کی اطاعت کی بچپن سے عادت ڈالنا - اطفال الاحمدیہ سے وابستہ کرنا ، ناصرات سے وابستہ کرتا ، خدام الاحمدیہ سے وابستہ کرتا بھی بہت ضروری ہے۔انصار اللہ کی ذمہ داری تو بعد میں آئے گی لیکن ۱۵ سال کی عمر تک ، خدام کی حد تک تو آپ تربیت کر سکتے ہیں۔خدام کی حد تک اگر تربیت ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے پھر انصار کی عمر میں بگڑنے کا امکان شاد کے طور پر ہی کوئی ہوگا ورنہ جتنی لمبی تالی والا ہے اس کو زیادہ لگتا ہے اس لیے اکثر وہ لوگ جو نظام جماعت پر تبصرے کرتے میں بے احتیاطی کرتے ہیں انکی اولادوں کو کم و بیش ضرور نقصان پہنچتا ہے اور بعفر ہمیشہ کے لیے ضائع ہو جاتی ہیں۔واقفین بچوں کو نہ صرف اس لحاظ سے بتانا چاہیئے بلکہ یہ بھی سمجھانا چاہیے کہ اگر تمہیں کسی سے کوئی شکایت ہے خواہ تمہاری تو قعات اس کے متعلق کتنی ہی عظیم کیوں نہ ہوں اس کے نتیجہ میں تمہیں اپنے نفس کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔اگر کوئی امیر جماعت ہے اور اس سے ہر انسان کو توقع ہے کہ یہ کرے اور وہ کرے اور کسی توقع کو اس سے ٹھوکر لگ جاتی ہے تو واقفین زندگی کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ان کو یہ خاص طور سمجھایا جائے کہ اس ٹھو کر کے نتیجہ میں تمہیں ہلاک نہیں ہوتا چاہیے۔یہ بھی اسی قسم کے زخم والی بات ہے جس کا میں نے ذکر کیا ہے یعنی دراصل ٹھوکر تو کھاتا ہے کوئی عہدیدار اور لحد میں اتر جاتا ہے دیکھنے والا۔وہ تو ٹھو کر کھا کر پھر بھی اپنے دین کی حفاظت کر لیتا ہے۔اپنی غلطی پر انسان استغفار کرتا ہے اور سنبھل جاتا ہے وہ اکثر ہلاک نہیں ہو جایا کرتا سوائے اس کے کہ بعض خاص غلطیاں ایسی ہوں لیکن