تحریک وقف نو

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 26 of 65

تحریک وقف نو — Page 26

43 42 اختیار نہیں ہیں۔اور بعض تو باتیں ایسی ہیں جن میں مقامی اخبار نہیں ہیں۔لیکن ابھی ہمارے پاس وقت ہے اور گزشتہ چند سالوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتوں میں اپنے اپنے اخبار جاری کرنے کے رجحان بڑھ چکے ہیں۔تو ساری جماعت کی انتظامیہ کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ جب آئندہ دو تین سال میں یہ بچے سمجھنے کے لائق ہو جائیں یا چار پانچ سال تک سمجھ لیں تو اس وقت واقفین تو کیلئے بعض مستقل پروگرام ، بعض مستقل نیچر آپ کے رسالوں اور اخباروں میں شائع ہوتے رہنے چاہئیں کہ وقت تو کیا ہے ؟ ہمہمان سے کیا توقع رکھتے ہیں ؟ اور بجائے اس کے کہ اکٹھا ایک دفعہ ایسا پروگرام دے دیا جائے جو کچھ عرصہ کے بعد بھول جائے ، یہ اخبارات چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تربیتی پروگرام پیش کیا کریں اور جب ایک حصہ رائج ہو جائے تو پھر دوسرے کی طرف متوجیہ ہوں، پھر تیسرے کی طرف متوجہ ہوں۔واقفین بچوں کی علمی بنیاد وسیع ہونی چاہئیے۔عام طور پر دینی علماء میں یہی کمزوری دکھائی دیتی ہے کہ دین کے علم کے لحاظ سے تو ان کا علم کافی وسیع اور گہرا بھی ہوتا ہے لیکن دین کے دائرہ سے باہر دیگر دنیا کے دائروں میں وہ بالکل لاعلم ہوتے ہیں علم کی اس کمی تے اسلام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔وہ وجوہات جو مذاہب کے زوال کا موجب بنتی ہیں اُن میں سے یہ ایک بہت ہی اہم وجہ ہے۔اس لیے جماعت احمدیہ کو اس سے سبق سیکھنا چاہئے اور علم کی وسیع بنیاد پر قائم دینی علم کو فروغ دینا چاہیے یعنی پہلے بنیاد عام دنیا وی علم کی وسیع ہو پھر اُس پر دینی علم کا پوند لگے تو بہت ہی خوبصورت اور با برکت ایک شجرہ طیبہ پیدا ہوسکتا ہے۔تو اس لحاظ سے بچپن ہی سے ان واقفین بچوں کو جنرل نالج بڑھانے کی طرف متوجہ کرنا چاہئیے۔آپ خود متوجہ ہوں تو ان کا علم آپ ہی آپ پڑھے گا یعنی ماں باپ متوجہ ہوں اور بچوں کے لیے ایسے رسائل، ایسے اختبارات لنگولیا کریں مین جائیں تو ایسے مضامین کا انتخاب ہو جس سے سائنس کے متعلق بھی کچھ واقعیت ہو۔عام دنیا کے جو آرٹس کے سیکوٹر مضامین ہیں مثلاً معیشت ، اقتصادیات ، فلسفه، نفسیات محراب تجارت وغیرہ ایسے جتنے بھی متفرق امورہ ہیں ان سب میں سے کچھ نہ کچھ علم بچے کو ضرور ہونا چاہیے۔علاوہ ازیں پڑھنے کی عادت ڈالنی چاہیے کیونکہ سکولوں میں تو اتنا زیادہ انسان کے پاس اختیار نہیں ہوا کرتا یعنی بچہ پانچ مضمون چھ مضمون، سات مضمون رکھ لے گا ، بعض دس بھی رکھ لیتے ہیں لیکن اس سے آگے نہیں جا سکتے۔اس لیے ضروری ہے کہ ایسے بچوں کو اپنے تدریسی مطالعہ کے علاوہ مطالعہ کی عادت ڈالنی چاہیئے اب یہ چیزیں ایسی ہیں جو ہمارے واقفین زندگی بچوں کے والدین میں سے اکثر کے بس کی نہیں۔میں جانتا ہوں کہ بہت سے بیچارے ایسے ہیں افریقہ میں بھی اور ایشیا یورپ اور امریکہ میں بھی جن کے اندر یہ استطاعت نہیں ہے کہ اس پر وگرام کو وہ واقعہ عملی طور پر اپنے بچوں میں رائج کر سکیں۔اس لیے یہ جتنی باتیں ہیں تحریک جدید کے متعلقہ شعبہ کو یہ نوٹ کرنی چاہئیں اور اس خطبہ میں جو نکات ہیں اُن کو آئندہ جماعت تک اس رنگ میں پہنچانے کا انتظام کرنا چاہیئے کہ والدین کی اپنی کم علمی اور اپنی استطاعات کی کمی بچوں کی اعلیٰ تعلیم کی راہ میں روک نہ بن سکے۔چنانچہ بعض جگہوں پر ایسے بچوں کی تربیت کا انتظام شروع ہی سے جماعت کو کرنا پڑے گا۔بعض جگہ ذیلی تنظیموں سے استفادے کئے جا سکتے ہیں، مگر یہ بعد کی باتیں ہیں، اس وقت تو جو ذہن میں چند باتیں آرہی ہیں وہ میں آپ کو سمجھ رہا ہوں کہ ہمیں کسی قسم کے واقفین بچے چاہئیں۔منتضبط رویہ اپنانے کی تربیت ایسے دو تین بچے چاہئیں جن کو واقعین | شروع ہی سے اپنے غصے کو ضبط ایسی کتابیں پڑھنے کی انکو عادت ڈالیں جس کے نتیجہ میں ان کا علم وسیع ہو اور جب وہ سکول کرنے کی عادت ہونی چاہیے جن کو اپنے سے کم علم کو حقارت سے نہیں دیکھنا چاہیئے۔