تحریک وقف نو

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 25 of 65

تحریک وقف نو — Page 25

41 40 فرق نہیں پڑتا حالانکہ بہت فرق پڑتا ہے۔اپنے گھر میں اچھے مزاج کو جاری کریں قائم کریں لیکن ٹہرے مزاج کے خلاف بچوں کے دل میں بچپن سے ہی نفرت اور کراہت پیدا کریں یہ بظاہر چھوٹی سی بات ہے اور اس پر میں نے اتنا وقت لیا ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ انسانی زندگی میں خصوصاً وہ زندگی جو تکلیفوں سے تعلق رکھتی ہو جو ذمہ داریوں سے تعلق رکھتی ہو اور جس میں کئی قسم کے اعصابی تناؤ ہوں وہاں مزاح قبض دفعہ بہت ہی اہم کردار ادا کرتا ہے اور انسانی ذہین اور انسانی نفسیات کی حفاظت کرتا ہے۔غنا کے متعلق میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔قناعت کے بعد پھر غنا کا مقام آتا ہے اور غنا کے نتیجہ میں جہاں ایک طرف امیر سے حسد پیدا نہیں ہوتا وہاں غریب سے شفقت ضرور پیدا ہوتی ہے۔غنا کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ غریب کی ضرورت سے انسان غنی ہو جائے انسان اپنی ضرورت سے غیر کی ضرورت کی خاطر غنی ہوتا ہے۔اسلامی غنا میں یہ ایک خاص پہلو ہے جسے نظر انداز نہیں کرتا چاہیے۔اس لیے واقفین بچے ایسے ہونے چاہئیں جو غریب کی تکلیف سے غنی نہ بنیں لیکن امیر کی امارت سے غنی ہو جائیں اور کسی کو اچھا دیکھ کر انہیں تکلیف نہ پہنچے لیکن کسی کو تکلیف میں دیکھ کر وہ ضرور تکلیف محسوس کریں۔جہاں تک انکی تعلیم کا تعلق ہے کی قرآن خوانی سکھا سکتے ہیں اور پھر قرآن کے مطالب سکھا سکتے ہیں کیونکہ قاری دو قسم کے ہوا کرتے ہیں۔ایک تو وہ جو اچھی تلاوت کرتے ہیں اور انکی آواز میں ایک کشش پائی جاتی ہے اور تجوید کے لحاظ سے وہ درست ادائیگی کرتے ہیں لیکن محض پرکشش آواز سے تلاوت میں جان نہیں پڑا کرتی۔ایسے قاری اگر قرآن کریم کے معنی نہ جانتے ہوں تو وہ تلاوت کا بت تجھ بنا دیتے ہیں تلاوت کے زندہ پیکر نہیں بنا سکتے۔لیکن وہ قادری جو سمجھ کر تلاوت کرتے ہیں اور تلاوت کے اس مضمون کے نتیجہ میں اُن کے دل پگھل رہے ہوتے ہیں، ان کے دل میں خدا کی محبت کے جذبات اُٹھ رہے ہوتے ہیں ، ان کی تلاوت میں ایک ایسی بات پیدا ہو جاتی ہے جو اصل روح ہے تلاوت کی۔تو ایسے گھروں میں جہاں واقفین زندگی ہیں وہاں تلاوت کے اس پہلو پر بہت زور دینا چاہئیے۔خواہ تھوڑا پڑھایا جائے لیکن ترجمہ کے ساتھ۔وه مطالب کے بیان کے ساتھ پڑھایا جائے اور بچے کو یہ عادت ڈالی جائے کہ جو کچھ بھی تلاوت کرتا ہے وہ سمجھ کر کرتا ہے۔ایک تو روز مرہ کی صبح کی تلاوت ہے اُس میں تو ہو سکتا ہے کہ بغیر سمجھ کے بھی ایک لمبے عرصہ تک آپ کو اسے قرآن کریم پڑھانا ہی ہوگا لیکن ساتھ ساتھ اس کا ترجمہ سکھانے اور مطالب کی طرف متوجہ کرنے کا پروگرام بھی جاری رہنا چاہیئے نماز کی پابندی اور نماز کے جو لوازمات ہیں انکے متعلق بچپن سے تعلیم دینا اور سکھانا یہ بھی واقفین نو کی تعلیم و تربیت کا اہتمام جامه ی تقسیم کازمان تو بعد میں | جامعہ کی میں جامعہ میں آکر سیکھنے والی باتیں نہیں۔اس سے بہت پہلے گھروں میں بچوں کو اپنے ماں آئے گا لیکن ابتداء ہی سے ایسے بچوں کو قرآن کریم کی تعلیم کی طرف سنجیدگی سے متوجہ باپ کی تربیت کے نیچے یہ باتیں آجانی چاہئیں۔کرنا چاہئیے۔اور اس سلسلہ میں انشاء اللہ یقیناً نظام جماعت بھی ضرور کچھ پروگرام بنائے گا۔ایسی صورت میں والدین نظام جماعت سے رابطہ رکھیں اور جب بچے اس عمر میں پہنچیں کہ جہاں وہ قرآن کریم اور دینی باتیں پڑھنے کے لائق ہوسکیں تو اپنے علاقے کے نظام سے یا براہ راست مرکز کو لکھ کر ان سے معلوم کریں کہ اب ہم کس طرح ان کو اعلیٰ درجہ اس کے علاوہ تعلیم میں وسعت تعلیم میں وسعت پیدا کرنے کی اہمیت پیداکرنے کی طرف توقیر کرنی چاہئیے اور دینی تعلیم میں وسوت پیدا کرنے کا ایک طریق یہ ہے کہ مرکزی اختبار و رسائل کا مطالعہ کرتا ہے۔بد قسمتی سے اس وقت بعض ممالک ایسے ہیں جہاں مقامی