تحریک وقف نو — Page 11
13 12 خدا کا پیار تو نہیں آسکتا۔آنحضرت ا سے کامل محبت اور آپ کی کامل پیروی کی ت ایک اور موقع پر اللہ تعالی نے آنحضرت ﷺ کی محبت کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے یا پیروی کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے قل بعبادی الذین اسرفوا علی انفسهم کہہ دے اے میرے بندو ! یہاں لفظی ترجمہ ہے اے میرے بندو! محمد مصطفیٰ اس کو کہا جا رہا ہے کہ اعلان کرد "بنی نوع انسان سے کہہ دو اے میرے بندو ! " بعض تغییر کرنے والے بڑی مشکل اور الجھن میں پڑ گئے کہ آنحضرت ا تو توحید کامل کا پیغام لے کر آئے خدا آپ کو یہ سکھا رہا ہے کہ کہو اے میرے بندو ! حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اس موضوع پر ایک سے زیادہ مرتبہ لکھا اور ہر موقع پر بہت ہی لطیف تغییر فرمائی ہے۔ایک موقع پر آپ فرماتے ہیں یہاں عبادی سے مراد غلام ہے مخلوق نہیں پر تذ لعبادي الذين اسر نوا على التسلیم سے مراد یہ ہے کہ اے محمد ! یہ اعلان کر کہ اے میرے غلامو ! تو پیروی کا مضمون تصویری زبان میں ہمیں سکھایا جا رہا ہے یہاں جب خدا کہتا ہے اتبعونی کا اعلان کرو تو مراد یہ ہے کہ میرے غلامانہ عاشق ہو جاؤ۔جس طرح غلام آقا کی پیروی کرتا ہے اور اس پیروی سے سرمو انحراف کی طاقت نہیں پاتا ایسی کامل محبت کرد که محمد مصطفی اس سے کہ تم میں استطاعت نہ رہے نافرمانی کی گویا کہ طومی طور پر تمہاری ساری طاقتیں پورے طور پر آنحضرت ا کے سپرد ہو جائیں۔کیوں ہو جائیں؟ اس کی دلیل قرآن کریم دوسری جگہ دے رہا ہے فرماتا ہے کل ان صلاتي و تشيكي ومحياي ومماتي لله رب العلمین کہ میں تجھے کہتا ہوں کہ میرے غلام بن جاؤ۔سب کچھ میرے سپرد کردو اور عاشقانہ رنگ میں میری پیروی کرنا شروع کر دو اس لئے نہیں کہ میری ذات میں کچھ رکھا ہے۔میں تو اپنا سب کچھ لٹا چکا ہوں، میں نے اپنا کچھ بھی باقی نہیں چھوڑا یہ بھی اعلان کروا رہا ہے خدا تذ ان صلاتي وتسکی میری ساری عبادتیں اور ان کا ایک ایک پہلو میرے سارے روزے اور قربانیاں اور ان کا ہر پہلو ، میرا مرتا اور میرا جینا سب کچھ خدا کے لئے ہو چکا ہے۔پس آنحضرت ﷺ کے متعلق جب خدا تعالٰی یہ فرماتا ہے کہ ان کے سپرد ہو جاؤ ا تو اس لئے نہیں کہ ایک بشر کو دوسرے بشر کے سپرد ہونے کا حکم دیا جا رہا ہے بلکہ اس لئے کہ ایک بشر کو ایک ایسے وجود کے سپرد ہونے کا حکم دیا جا رہا ہے جس نے اپنی بشریت کو شاکر کے کلیتہ اپنے آپ کو خدا تعالٰی کے سپرد کر دیا تھا۔یہ اگر ہو تو پھر تمام انعامات کے دروازے کھلے ہیں۔مگر اس موقع پر انعامات کا ذکر نہیں۔ایک اور پہلو بیان کیا جا رہا ہے۔فرمایا الَّذِيْنَ أَسْرَكُوا عَلَى الْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ الله وہ لوگ جنہوں نے بڑے انلوده بڑے گناہ کئے ہیں پہاڑوں کے برابر بھی خواہ گناہ کئے ہوں ان کے لئے بھی کوئی خوف نہیں ہے۔اگر وہ محمد مصطفی پیر کے پیچھے لگ جائیں گے اور غلاموں کی طرح پیچھے لگیں گے تو ان کے سارے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔کیونکہ خدا تمام گناہ بخشنے کی طاقت رکھتا ہے شرط یہ ہے کہ محمد مصطفیٰ لینے کے عباد بن جاؤ چنانچہ یہ جو تثلیث کا مسئلہ اور ہماری خاطر ایک نجات دہندہ نے اپنے آپ کو نعوذ باللہ من ذالک لعنت میں ڈالا یہ جو تصور پیش کیا جاتا ہے اس سب کا بطلان کر دیا اس آیت میں فرمایا رہ وجود جو خدا کے سپرد ہو گیا کلیتہ کامل طور پر اس کا ہو گیا۔اگر تم اس کے پیچھے آنا چاہتے ہو تو یہ خوف دامن گیر نہ رہے کہ ہم گناہ گار ہیں ہم کیسے پیچھے چلیں گے۔ہم کون ہوتے ہیں محمد مصطفی کی پیروی کرنے والے یہ خیال ولی میں پیدا ہو سکتا ہے فرمایا نہیں۔اگر اس وجود کی پیروی کرو گے تو تم دیکھو گے کہ بات اللہ بشیرال انوب جميعاً محمد رسول اللہ ﷺ کی سنت اور آپ کے طرز زندگی سے خدا کو اتنا پیار ہے کہ آپ کی خاطر اس حسن و ادا کی خاطر جو تم اختیار کرو گے محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی میں۔اللہ تعالٰی تمہارے ہر قسم کے گناہ معاف فرماتا چلا جائے گا۔ان الغفور الرحيم (الزمر: ۵۳) یقیناً وہ بہت ہی بخشنے