تحریک وقف نو — Page 12
15 والا اور بہت ہی مہربان ہے۔14 امیدوں کی آخری مقام تک رسائی : پھر ایک اور مقام پر منفی لحاظ سے جو خوف تھے وہ دور کئے مثبت لحاظ سے امیدوں کو آخری مقام تک پہنچا دیا فرمایا: وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَ الرَسُولَ فَاوَلكَ مَعَ الَّذِينَ الْعَمَا اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصَّدِقِينَ والشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِيْنَ وَحَسُ أُولَيكَ زنيقاً ( النساء ما كہ جب محمد مصطفیٰ کی پیروی کا حکم دیا جاتا ہے محبت کے نتیجہ میں اور پیار کی وجہ سے تو فرمایا اس کے بعد جب میں کہتا ہوں تم میرے محبوب بن جاؤ گے تو اس طرح محبوب بنا کر میں تمہیں کیا دوں گا ، کوئی وعدہ میں وضاحت بھی تو ہونی چاہیئے کہ محبوب کے ساتھ خدا کیا سلوک فرمائے گا۔فرمایا اگر تم محمد مصطفی ﷺ کی پیروی کرو اس وجہ سے کہ یہ خدا کی پیروی کرنے والا ہے من یطیع الله والرسول میں ایک بریکٹ میں باندھ دیا ہے۔ایک کی پیروی دوسرے کی پیروی سے الگ نہیں ہو سکتی یہ مضمون بیان ہو رہا ہے) فرمایا ومن تعلیم الله وَالرَّسُولَ فَاربَكَ مَعَ الَّذِينَ الْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ تم دیکھو گے کہ خدا کے انعامات کی بارشیں برستی ہیں تم پر اور تم دیکھو گے کہ کوئی انعام بھی ایسا نہیں جو اس پیروی کے نتیجہ میں نہ پاسکو۔فرمایا من النبيين والصدیقین کتنے عظیم الشان بلند پہاڑوں کی طرح انعام ہیں۔نبیوں کا انعام ہے فرمایا تمہاری اطاعت کا درجہ یہ طے کرے گا کہ تم اس پیروی کے نتیجہ میں خدا کے کتنے محبوب بنتے ہو۔اگر صالحیت تک ہی پہنچے ہو تو وہ انعام بھی خدا نہیں روکے گا اور اگر آگے بڑھ کر شہادت کے مقام تک پہنچ جاتے ہو تو تمہیں محمد مصطفی کی غلامی سے شہادت کا مقام نصیب ہوگا۔اگر اس سے آگے قدم رکھنے کی ہمت ہے اور صد قیمت کی شان اپنے اندر پیدا کرتے ہو تو یقین جانو کہ محمد مصطفیٰ اس کی غلامی صد حقیت کے مقام تک پہنچائے گی اور یہ انعام بھی تم پر نازل ہوگا۔اور اگر اس ، سے بھی آگے بڑھنے کی طاقت ہے اور اپنا کامل وجود محمد مصطفی ﷺ کے لئے کھو دینے کی عظمت پاتے ہو تو پھر یقین جانو کہ تمہیں علی ثبوت بھی عطا ہوگی جو محمد مصطفی کی غلامی کے نتیجہ میں عطا ہو سکتی ہے یہ محبت لا متناہی انعامات کے دروازے کھولتی چلی جا رہی ہے۔یہ محبت اس محبت کا آغاز اس دعوے اس تمنا اور اس اقرار سے ہوا کہ ہم خدا سے محبت کرتے ہیں۔سارے رستے کھول دیئے اور اس کے سارے پہلو بیان فرمائے لیکن یہ مضمون تو جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا قرآن کریم پر حاوی ہے۔قرآن کریم میں ہر طرف پھیلا پڑا ہے۔اس موضوع کے تمام پہلوؤں پر تو چند خطبات میں روشنی ڈالی نہیں جاسکتی صرف ایک دو امور ان خطبوں میں بیان کرنے کے لئے چیتے ہیں۔شخص آنحضرت ا سے حضرت مسیح موعود کی کامل محبت: آخر پر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا اقرار آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ایک ایسے اقرار جس نے اپنے آپ کو سپرد کیا محبت کی اور آنحضرت ا کو محبوب پایا۔اس قدر عشق آپ کے دل میں حضرت رسول اکرم ﷺ کا موجزن تھا کہ اس کی کوئی مثال آپ کو اور کہیں دکھائی نہیں دیتی۔نہ دنیا کے عاشقوں میں اور نہ محمد رسول اللہ ہے کے بعد روحانی عاشقوں میں آپ یہ نظارہ دیکھیں گے ایک موقع پر فرمایا۔اگر خواهی دلیلی عاشقش باش : محمد است برہان محمد تم صداقت محمد مصطفی ﷺ کی دلیل مانگتے ہو تو ایک ہی دلیل ہے تم عاشق ہو جاؤ اس پر۔اب ایک ایسا شخص جو اس عظیم الشان عرفان کے تجربے سے نہ گذرا ہو وہ یہ بات کہہ ہی نہیں سکتا۔فرمایا محمد مصطفیٰ ﷺ کو پانا جو ہے یہ تو حسن کے رستے ہے پانا ہے تم منطقی دلائل کیا ڈھونڈ رہے ہو۔ایک حسین وجود ہے اس کو دیکھو اور عاشق ہو جاؤ ب محمد بہت برہان محمد محمد ﷺ خود اپنے حسن کی دلیل ہے۔اس سے زیادہ اور کوئی دلیل نہیں دی جاسکتی پھر فرماتے ہیں:۔ان