تحریک وقف نو — Page 10
11 10 بن دیکھے کسی طرح کسی مہ رخ پر آئے دل کیسے کوئی خیالی متم لگائے دل پس آنحضرت ﷺ کی محبت کا جب قرآن کریم نے حکم دیا جب قرآن کریم نے احسان فرمایا ہم پر یہ تھا کر کہ بہت ہی محبوب ہستی موجود ہے اس کا پیار تمہارے دل میں خدا کا پیار پیدا کرے گا اور خدا تم سے پیار کرنے لگے گا۔تو محض یہ کہنا تو کافی نہیں کہ بن دیکھے کسی طرح کسی مہ رخ پہ آئے دل آنحضرت ام کا دکھانا ضروری ہے۔اس لئے میں نے گذشتہ سال یہ تاکید کی تھی کہ جوں جوں ہم غلبہ اسلام کی صدی میں داخل ہونے کے لئے قریب تر ہوتے چلے جا رہے ہیں سیرت کے موضوع پر جلسوں کی کثرت ہونی چاہیئے تاکہ اس صدی میں اللہ اور رسول اے کے عاشقوں کا ایک قافلہ داخل ہو ، محض اسلام کے غالب آنے کے بڑے بڑے نعرے بلند کرتے ہوئے خالی دل لوگ نہ ہوں بلکہ ایسے جن کے دل عشق الہی اور عشق محمد مصطفی سے بھرے ہوئے ہوں جن کے خون میں یہ عشق و محبت جاری ہو چکی ہو اس زاد راہ کے بغیر آپ اپنی اگلی صدی کی نسلوں کی زندگی میں کوئی عظیم الشان تبدیلی نہیں پیدا کر سکتے۔بہت بڑی صدی ہے جو ہمارا انتظار کر رہی ہے۔اس میں بہت بڑے بڑے کام ہونے والے ہیں۔انہوں نے ہم سے رنگ پکڑتے ہیں اور وہ رنگ لے کر انہوں نے آگے بڑھنا ہے اس سے اگلی صدی کی طرف پیس پیشتر اس کے کہ وہ وقت پہنچ جائے اور ہم اس صدی میں داخل ہو رہے ہوں ہمیں چاہئے کہ ہم اس حسن کامل سے مزین ہونے کی کوشش شروع کر دیں جو اللہ اور رسول ﷺ سے محبت کے نتیجے میں ظاہر ہوتا ہے اس کے نتیجے میں عطا ہوتا ہے۔آنحضرت ا کی پیروی کا ایک اور مھتم بالشان پہلو : آنحضرت ا کی پیروی کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ خدا تعالٰی نے خود حضور اکرم ا ہے کو اپنی پیرومی سکھائی ہے جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے الله ما اوحى إِلَيْكَ مِن ريكَ لَا إِلَهَ إِلَّاهُوَ وَاعْرِضْ عَنِ المُشركين - (سورۃ الانعام آیت ۱۴۷) کہ جو کچھ خدا تعالٰی تجھ پر وحی کی صورت میں نازل فرما رہا ہے وہ کرتا چلا جا۔اور مشرکوں سے اعراض کر، اور کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھ ، پس حضرت رسول اکرم ﷺ کی پیروی میں کوئی ثانویت نہیں ہے۔کوئی یہ نہ سمجھے کہ خدا کہتا ہے کہ مجھے سے پیار کرتے ہو تو ایک اور تیسرے شخص سے بھی پیار شروع کردے۔ایک ایسے شخص کے پیار کا حکم دیا جا رہا ہے جس کو خدا نے خود تربیت دے کر اپنے رنگ اس پر چڑھائے ہیں اور اپنے حسن کو زیادہ ہماری دسترس میں پہنچا دیا ہے انسان کا جہاں تک تعلق ہے انسان کو انسان سے کوئی ملتی جلتی شکل نظر آنی چاہئے جس کے نتیجہ میں وہ اس سے محبت کرے۔چنانچہ اس سلسلہ میں ایک روایت آتی ہے کہ آنحضرت ا ایک دفعہ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے وہاں کچھ لوگ بتوں کو سجا رہے تھے انہیں کھڑا کر کے بندے پستا رہے تھے ان پر لباس چڑھا رہے تھے اور پھر وہ خود ہی ان و سجا کر ان کو سجدے کر رہے تھے۔آنحضرت ﷺ نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا حرکتیں کر رہے ہو۔انہوں نے جواب دیا ہم اس لئے ان کی عبادت کرتے ہیں ان سے پیار کرتے ہیں کہ یہ ہمیں خدا کا پیار سکھاتے ہیں ان کے پیار کے ذریعہ ہمیں اللہ کا پیار حاصل ہوتا ہے۔اس دن یہ آیت نازل ہوئی قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ الله نَاتَّبِعُونِي يُحْببكم اللہ کتنی بے وقوفی ہے بتوں سے تم کس طرح خدا کا پیار سیکھ سکتے ہو وہ تو نہ پیروی کرنے کی اہمیت رکھتے ہیں اور نہ ان کی پیروی کی جاسکتی ہے۔خدا کا پیار تو اس سے سیکھا جا سکتا ہے جسے خود خدا نے اپنا پیار سکھایا ہو چونکہ مجھے خدا نے اپنا پیار سکھا دیا ہے اس لئے تم میری پیروی کرو۔اگر یہ تمہارا دعوئی ہے تو پھر بتوں کی پیروی سے