تحریک وقف نو

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 36 of 65

تحریک وقف نو — Page 36

88 62 سکتے ہیں لیکن با العموم صحت مند وا تعین ہمار و تعین کے مقابل پر زیادہ خدمت کے اہل ثابت ہوتے ہیں اسلئے بچپن ہی سے انکی صحت کی بہت احتیاط کے ساتھ نگہداشت ضروری ہے۔پھر انکو مختلف کھیلوں میں آگے بڑھانے کی باقاعدہ کوشش کرنی چاہئے۔ہر شخص کا مزاج کھیلوں کے معاملے میں مختلف ہے۔پس جس کھیل سے بھی کسی واقف بچے کو رغبت ہو اس کھیل میں حتی المقدور کوشش کے ساتھ ماہرین کے ذریعے اسکو تربیت ولانے کی کوشش کرنی چاہئے۔بعض دفعہ ایک ایسا مربی جو کسی کھیل میں مہارت رکھتا ہو محض اس کھیل کی وساطت سے لوگوں پر کافی اثر رسوخ قائم کر لیتا ہے اور نوجوان نسلیں اسکے ساتھ خاص طور پر وابستہ ہو جاتی ہیں۔پس ہم تربیت کا کوئی بھی راستہ اختیار کریں۔کیونکہ ہماری نیتیں خالص ہیں۔اسلئے وہ رستہ خدا ہی کی طرف جائے گا۔دنیاوی تعلیم کے سلسلے میں میں نے بیان کیا تھا کہ انکی تعلیم کا دائرہ وسیع کرنا چاہئے۔انکے علم کا دائرہ سرچ کرنا چاہئے اس سلسلے میں قوموں کی تاریخ اور مختلف ممالک کے جغرافیہ کو خصوصیت کے ساتھ انکی تعلیم میں شامل کرنا چاہئے۔لیکن تعلیم میں بچے کے طبعی بچپن کے رحجانات کو ضرور پیش نظر رکھنا ہوگا۔اور محض تعلیم میں ایسی سنجیدگی اختیار نہیں کرنی چاہئے جس سے وہ بچہ یا تو با الکل تعلیم سے بے رغبتی اختیار کر جائے یا دوسرے بچوں سے اپنے آپ کو باالکل الگ شمار کرنے لگے اور اسکا طبعی رابطہ دوسرے بچوں سے منقطع ہو جائے۔مثلا" بچے کہانیاں بھی پسند کرتے ہیں۔اور ایک عمر میں جا کر انکو ناولز کے مطالعہ سے بھی دور نہیں رکھنا چاہئے لیکن بعض قسم کی لغو کہانیاں جو انسانی طبیعت پر گندے اور گہرے بد اثرات چھوڑ جاتی ہیں ان سے انکو بچانا چاہیے خواہ نمونے کے طور پر ایک آدھ کہانی انہیں پڑھا بھی دی جائے۔بعض بچے (DETECTIVE STORIES) یعنی جاسوسی کہانیوں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں لیکن اگر انہیں اسی قسم کی نفو جاسوسی کہانیاں پڑھائی جائیں جیسے آجکل پاکستان میں رائج ہے۔اور بعض مصنف بچوں میں غیر معمولی شہرت اختیار کر چکے ہیں جاسوسی کہانیوں کے مصنف کے طور پر تو پچائے اسکے کہ انکا ذہن تیز ہوا کی استدلال کی طاقتیں میٹل ہو جائیں اور زیادہ پہلے سے بڑھ کر ان میں استدلال کی قوت چکے وہ ایسے جاہلانہ جاسوسی تصورات میں جلا ہو جائیں گے کہ جسکا نتیجہ عقل کے ماؤف ہونے کے سوا اور کچھ نہیں نکل سکتا۔شریک ہومز کو تمام دنیا میں جو غیر معمولی عظمت حاصل ہوئی ہے وہ بھی تو جاسوسی ناول لکھنے والا انسان تھا لیکن اسکی جاسوسی کہانیاں دنیا کی اتنی زبانوں میں ترجمہ ہوئی ہیں کہ آج تک کسی دوسرے مصنف کی اس طرز کی کہانیاں دوسری زبانوں میں اسطرح ترجمہ نہیں کی گئیں۔چ طرح شیکسپیٹر کے نام پر انگریز قوم کو فخر ہے۔اسطرح اس جاسوسی ناول نگار کے نام پر بھی انگریز قوم فخر کرتی ہے یہ محض اسلئے ہے کہ اسکے استدلال میں معقولیت تھی اگرچہ کہانیاں فرضی تھیں۔اسلئے اس قسم کی جاسوسی کہانیاں بچوں کو ضرور پڑھائی جائیں جن سے استدلال کی قوتیں تیز ہوں لیکن احمقانہ جاسوسی کہانیاں تو استدلال کی قوتوں کو پہلے سے تیز کرنے کی بجائے ماؤف کرتی ہیں۔اسی طرح ایک رواج ہندوستان میں اور پاکستان میں آجکل بہت بڑھ رہا ہے۔اور وہ بچوں کو دیو مالائی کہانیاں پڑھانے کا رواج ہے۔اور ہندوستان کی دیو مالائی کہانیوں میں اس قسم کے لغو تصورات بکثرت ملتے ہیں جو بچے کو بھوتوں اور جادو کا قائل کریں اور اس قسم کے تصورات اسکے دل میں جاگزیں کریں۔کہ گویا سانپ ایک عمر میں جاکر اس قابل ہو جاتا ہے کہ دنیا کے ہر جانور کا روپ دھار لے اور اسی طرح جادو گرنیاں، اور ڈائنیں انسانی زندگی میں ایک گہرا کردار ادا کرتی ہیں۔یہ سارے فرضی تھے اگر بڑا پڑھے تو جانتا ہے کہ یہ محض دل بہلاوے کی من گھڑت کہانیاں ہیں لیکن جب بچہ پڑھتا ہے تو ہمیشہ کے لیے اسکے دل پر بعض اثرات قائم ہو جاتے ہیں۔