تحریک وقف نو

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 37 of 65

تحریک وقف نو — Page 37

65 64 جو بچہ ایک دفعہ ان کہانیوں کے اثر سے ڈرپوک ہو جائے اور اندھیرے اور انہونی چیزوں سے خوف کھانے لگے پھر تمام عمر اسکی یہ کمزوری دور نہیں کی جا سکتی۔بعض لوگ بچپن کے خوف اپنے بڑھاپے تک لے جاتے ہیں۔اسلئے کہانیوں میں بھی ایسی کہانیوں کو ترجیح دینا ضروری ہے جن سے کردار میں عظمت پیدا ہو، حقیقت پسندی پیدا ہو، بہادری پیدا ہو۔دیگر انسانی اخلاق میں سے بعض، نمایاں کر کے پیش کیئے گئے ہیں۔ایسی کہانیاں خواہ جانوروں کی زبان میں بھی پیش کی جائیں وہ نقصان کی بجائے فائدہ ہی دیتی ہیں۔عربی کہانیاں لکھنے والوں میں یہ رحجان پایا جاتا تھا کہ وہ جانوروں کی کہانیوں کی صورت میں بہت سے اخلاقی سبق دیتے تھے اور الف لیلی کے جو قصے تمام دنیا میں مشہور ہوئے ہیں ان میں اگر چہ بعض بہت گندی کہانیاں بھی شامل ہیں لیکن ان کے پس پردہ روح میں تھی کہ مختلف قصوں کے ذریعہ بعض انسانی اخلاق کو نمایاں طور پر پیش کیا جائے مثلا یہ قصہ کہ ایک بادشاہ نے اپنی ملکہ کو ایک کتے کی طرح باندھ کر ایک جگہ رکھا ہوا تھا اور جانوروں کی طرح اس سے سلوک کیا جا رہا تھا اور کتے کو بڑے اہتمام کے ساتھ معزز انسانوں کی طرح محلات میں بٹھایا گیا تھا اور اسکی خدمت پر نوکر مامور تھے۔یہ قصہ ظاہر ہے کہ بالکل فرضی ہے لیکن جو اعلیٰ طلق پیش کرنا مقصود تھا وہ یہ تھا کہ کتا مالک کا وفادار تھا اور ملکہ دنیا باز اور احسان فراموش تھی۔پس ایسی کہانیاں پڑ مکر بچہ کبھی یہ سبق نہیں لیتا کہ بیوی پر ظلم کرنا چاہئے بلکہ یہ سبق لیتا ہے کہ انسان کو دوسرے انسان کا وفادار اور احسان مند رہنا چاہیئے۔اسی طرح مولانا روم کی مثنوی بعض کہانیاں ایسی بھی پیش کرتی ہے جو پڑ سکہ بعض انسان سمجھتے ہیں کہ یہ کیسے مولانا ہیں جو اتنی گندی کہانیاں بھی اپنی مثنوی میں شامل کئے ہوئے ہیں جن کو پڑھ کر انسان یہ سمجھتا ہے کہ ان کی ساری توجہ جنسیات کی طرف ہے اور اسکے باہر یہ سوچ بھی نہیں سکتے۔چنانچہ ایک دفعہ لاہور کے ایک معزز غیر احمدی سیاستدان نے مجھے مولانا روم کے مثنوی پیش کی جس میں جگہ جگہ نشان لگائے ہوئے تھے اور ساتھ یہ کہا کہ آپ لوگ کہتے ہیں کہ یہ بزرگ انسان تھا یہ اتنا بڑا مرتبہ تھا ایسا بڑا فلسفی تھا، ایسا صوفی تھا لیکن یہ واقعات آپ پڑھیں اور مجھے بتائیں کہ کوئی شریف انسان یہ برداشت کر لے گا کہ اسکی بہو بیٹیاں ان کہانیوں کو پڑھیں چنانچہ جب میں نے ان حصوں کو خصوصیت سے پڑھا تو یہ معلوم ہوا کہ نتیجہ نکالنے میں اس دوست نے غلطی کی ہے۔یہ کہانیاں جنیات سے ہی تعلق رکھتی تھیں لیکن انکا آخری نتیجہ ایسا تھا کہ انسان کو جنسی بے راہ روی سے سخت منظر کر دیتا تھا اور انجام ایسا تھا جس سے جنسی جذبات کو ا نگیت ہونے کی بجائے پاکیزگی کی طرف انسانی ذہن مائل ہوتا تھا۔پس یہ تو اسوقت میرا مقصد نہیں کہ تفصیل سے لٹریچر کی مختلف قسموں پر تبصرہ کروں۔یہ چند مثالیں اسلئے آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں کہ اپنے بچوں کو جو کچھ آپ پڑھاتے ہیں اسکے متعلق خوب متفبہ رہیں کہ اگر غلط لٹریچر بچپن میں پڑھایا گیا تو اسکے بداثرات بعض موت تک ساتھ چھٹے رہتے ہیں اور اگر اچھا لٹریچر پڑھایا جائے تو اسکے نیک اثرات بھی بہت ہی شاندار نتائج پیدا کرتے ہیں اور بعض انسانوں کی زندگیاں سنوار دیا کرتے ہیں جہاں تک زبانوں کا تعلق ہے۔سب سے زیادہ زور شروع ہی سے عربی زبان پر دینا چاہئے کیونکہ ایک مبلغ عربی کے گہرے مطالعہ کے بغیر اور اسکے باریک در بار یک مفاہیم کو سمجھے بغیر قرآن کریم اور احادیث نبویہ سے پوری طرح استفادہ نہیں کر سکتا۔اسلئے بچپن ہی سے عربی زبان کے لیے بنیاد قائم کرنی چاہئے اور جہاں ذرائع میر ہوں اسکی بول چال کی تربیت بھی دینی چاہئے۔قادیان اور ربوہ میں ایک زمانے میں جب ہم طالبعلم تھے عربی زبان کی طرف تو توجہ تھی لیکن بول چال کا محاورہ نہیں سکھایا جاتا