تحریک وقف نو

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 31 of 65

تحریک وقف نو — Page 31

53 52 کہ یہ بچہ اس کا ہے۔پیس جو خدا کی خاطر جماعت سے محبت رکھتا ہے ، کیسے ممکن ہے کہ وہ جماعت کو ٹکڑے ہوتے دے اور ایسی باتیں برداشت کر جائے کہ جس کے نتیجہ یں کس کے ایمان و گزند پہ یا ہو۔وہ اپنی جان پر سب وہاں سے لیگا اور یہی اسکی سچائی کی علامت ہے۔لیکن اپنی تکلیف کو دوسرے کی روح کو زخمی کرنے کیلئے استعمال نہیں کریگا پس واقفین میں اس تربیت کی غیر معمولی ضرورت ہے۔کیونکہ یہ ایک دفعہ واقعہ نہیں ہوا، دو دفعہ نہیں ہوا بیسیوں مرتبہ پہلے ہو چکا ہے اور اس کے نتیجہ میں بعض دفعہ بڑے فتنے پیدا ہوئے ہیں۔ایک شخص سمجھتا ہے کہ میں نے خوب چالاکی کی ہے خوب انتقام لیا ہے، اس طرح تحریک جدید نے مجھ سے کیا اور اسطرح پھر میں نے اس کا جواب دیا۔اب دیکھ لو میرے پیچھے کتنا بڑا گروہ ہے۔اور یہ نہیں سوچا کہ وہ گردہ اس کے پیچھے نہیں وہ شیطان کے پیچھے تھا۔وہ بجائے متقیوں کا امام بننے کے منافقین کا امام بن گیا ہے اور اپنے آپکو بھی ہلاک کیا ہے اور اپنے پیچھے پیلنے والوں کو بھی ہلاک کیا۔پس یہ چھوٹی چھوٹی باتیں سہی لیکن غیر معمولی نتائج پیدا کر یوالی باتیں ہیں۔آپ بچپن سے ہی اپنے واقفین تو کو یہ باتیں سمجھائیں اور پیار محبت سے ان کی تربیت کریں تاکہ وہ آئندہ صدی کی عظیم لیڈرشپ کے اہل بن سکیں۔| اور بہت سی باتوں میں جو آخر واقفین بچوںمیں وفا کا مادہ پیدا کریں سے ایک ہم بات کہ میں از پر کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ واقفین بچوں کو وفا سکھائیں۔وقف زندگی کا وفا ہے بہت گہرا تعلق ہے۔وہ واقف زندگی جو دتا کے ساتھ آخری سانس تک اپنے وقف کیساتھ نہیں چھٹتا وہ جب الگ ہوتا ہے تو خواہ جماعت اسکو سزادے یا نہ دے وہ اپنی روح پر غداری کا داغ لگا لیتا ہے۔اور یہ بہت بڑا داغ ہے۔اس لیے آپ نے جو فیصلہ کیا اپنے بچوں کو وقف کرنے کا یہ بہت بڑا فیصلہ ہے۔اس فیصلے کے نتیجہ میں یا تو یہ بچے عظیم اولیاء نہیں گے یا پھر عام حال سے بھی جاتے رہیں گئے اور ان کوشدید نقصان پہنچنے کا بھی احتمال ہے۔جتنی بلندی ہو اتنا ہی بلندی سے گرنے کا خطرہ بھی تو بڑھ جایا کرتا ہے۔اسلیئے بہت احتیاط سے انکی تربیت کریں اور ان کو وفا کے سبق دیں اور بار بار دیں۔بعض دفعہ ایسے واقفین جو وقف چھوڑتے ہیں وہ اپنی طرف سے چالاکی سے چھوڑتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب ہم جماعت کی حد سے باہر نکل گئے ، اب ہم آزاد ہو گئے ، اب ہمارا کچھ نہیں کیا جاسکتا۔یہ چالا کی تو ہوتی ہے لیکن عقل نہیں ہوتی۔وہ چالاکی سے اپنا نقصان کر نیوالے ہوتے ہیں۔ابھی کچھ عرصہ پہلے میرے سامنے ایک ایسے واقف زندگی کا معاملہ آیا جسکی ایسے ملک میں تقرری تھی کہ اگر وہاں ایک معین عرصہ تک وہ رہے تو وہاں کی HATTONALITY کا حقدار بن جاتا تھا۔بعض وجوہات سے میں نے اس کا تبادلہ ضروری سمجھا۔چنانچہ جب میں نے اس کا تبادلہ کیا تو چھ یا سات ماہ ابھی اس مدت میں باقی تھے جس کے بعد وہ نیشنیلٹی کا حقدار بنتا تھا تو اس کے بڑے لجاجت کے اور محبت اور خلوص کے خط آنے شروع ہوئے کہ مجھے یہاں قیام کی کچھ مزید مہلت دی جائے میں نے وہ مہلت دے دی۔بعض صاحب فہم لوگوں نے سمجھا کہ وہ مجھے بیوقوف بنا گیا ہے۔چنانچہ انہوں نے لکھا کہ جناب یہ تو آپ کے ساتھ چالا کی کر گیا ہے۔اور یہ تو چاہتا ہے کہ عرصہ پورا ہو اور پھر وقف سے آزاد ہو جائے پھر اس کو پر واہ کوئی نہ رہے۔میں نے ان کو بتایا یا لکھا کہ مجھے سب پتہ ہے۔آپ کیا سمجھتے ہیں کہ میرے علم میں نہیں کہ یہ کیوں ایسا کر رہا ہے۔لیکن وہ میرے ساتھ چالا کی نہیں کر رہا وہ اپنے نفس کے ساتھ چالا کی کر رہا ہے۔وہ ان لوگوں میں سے ہے جن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے۔تخدِمُونَ اللَّهَ وَالَّذِيْنَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ