تحریک وقف نو

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 30 of 65

تحریک وقف نو — Page 30

51 50 جن کا مزاج ٹھوکر کھانیوالا ہے وہ ان غلطیوں کو دیکھ کر بعض دفعہ ہلاک ہی ہو جایا کرتے ہیں، دین سے ہی منتظر ہو جایا کرتے ہیں اور پھر جراثیم پھیلانے والے بن جاتے ہیں مجلسوں میں بیٹھ کر جہاں دوستوں میں تذکرے ہوتے ہیں وہاں کہدیا جی فلاں صاحب نے تو یہ کیا تھا اور فلاں صاحب نے یہ کیا تھا اس طرح وہ ساری قوم کی ہلاکت کا موجب - بن جاتے ہیں۔تو بچوں کو پہلے تو اس بلا سے محفوظ رکھیں۔پھر جب ذرا بڑی عمر کے ہوں تو ان کو سمجھائیں کہ اصل محبت تو خدا اور اُس کے دین سے ہے۔کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے خدائی جماعت کو نقصان پہنچتا ہو۔آپ کو اگر کسی کی ذات سے تکلیف پہنچی ہے یا نقصان پہنچا ہے تو اسکا ہرگز یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ آپ کو حق ہے کہ اپنے ماحول، اپنے دوستوں ، اپنے بچوں اور اپنی اولاد کے ایمانوں کو بھی آپ ترقی کرتا شروع کر دیں۔اپنا زخم حوصلے کے ساتھ اپنے تک رکھیں اور اس کے اندمال کے جو ذرائع باقاعدہ خدا تعالیٰ نے جیا لڑتے ہیں انکو اختیار کریں لیکن لوگوں میں ایسی باتیں کرنے سے پر ہیز کریں۔ہمارے ساتھ یہ ہوا ہے، وہ قصے بیان کرنے شروع کئے۔خود تو اس طرح پیچ کے واپس اپنے ملک میں چلے گئے اور پیچھے کئی زخمی رو میں چھوڑ گئے ان کا گناہ کس کے سر پہ ہوگا۔یہ بھی ابھی طے نہیں ہوا کہ انتظامیہ کی غلطی تھی بھی یا نہیں۔اور جہاں تک میں نے جائزہ لیا ، غلطی انتظامیہ کی نہیں تھی۔بدھنی سے سارا سلسلہ شروع ہوا لیکن اگر غلطی ہوتی بھی تب بھی کسی کا یہ حق نہیں ہے کہ اپنی تکلیف کی وجہ سے دوسروں کے ایمان ضائع کرے۔پیس سچا و قلیا وہ ہوا کرتا ہے جو خدا تعالیٰ کی جماعت پر نظر رکھے۔اسکی صحت پر نظر رکھے۔پیار کا وہی ثبوت سچا ہے جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے تجویز کیا تھا اور اس سے زیادہ بہتر قابل اعتماد اور کوئی بات نہیں۔آپ نے سنا ہے بار ہا مجھ سے بھی سنا ہے پہلے بھی سنتے رہے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت سلیمان کی عدالت میں دو دعویدار ماؤں کا جھگڑا پہنچا۔جن کے پاس ایک ہی بچہ تھا کبھی ایک گھسیٹ کر اپنی طرف لے جاتی تھی کبھی دوسری گھسیٹ کر اپنی طرف لے جاتی تھی اور دونوں روتی اور شور چاتی تھیں کہ یہ میرا بچہ ہے۔کسی صاحب قہم کو سمجھ نہیں آئی کہ اس مسئلہ کو کیسے طے آئندہ صدی کی عظیم لیڈر شیک اہل بنان والی تربیت آج بھی جاعت کیا جائے۔چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی عدالت میں یہ مسئلہ پیش کیا گیا تو آپ میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں اور ایسے واقعات میری نظر میں آتے رہتے ہیں۔مثلاً ایک شخص کو کوئی تکلیف پہنچی ہے اور اس نے بعض مخلصین کے سامنے وہ باتیں بیان کیں۔وہ باتیرے اگرچہ سچی تھیں لیکن اس نے یہ نہیں سوچا کہ ان مخلصین کے ایمان کو کتنا بڑا نقصان پہنچے سکتا ہے۔بعض واقفین زندگی نے بھی ایسی حرکتیں کیں ، ان کو انتظامیہ سے یا تبشیر سے شکوہ ہوا غیر ملکوں کے تو احمدی مخلصین بیچارے ساری عمر بڑے اخلاص کے ساتھ جماعت سے تعلق رکھتے تھے ان کو اپنا ہمدرد بنانے کی خاطر یہ بتانے کیلئے کہ دیکھیں جی نے فرمایاکہ برطے کرنا تو بڑا مشکل ہے کہ یہ کس کا بچہ ہے۔اگر ایک کا بچہ کا ہوا اور دوسری کو دے دیا گیا تو بڑا ظلم ہوگا اس لیے کیوں نہ اس بچے کو دو ٹکڑے کر دیا جائے اور ایک ٹکڑا ایک کو دے دیا جائے اور دوسرا ٹکڑا دوسری کو دے دیا جائے۔تاکہ نا انصافی نہ ہو۔چنانچہ انہوں نے جلاد سے کہا کہ آؤ اس بچے کو عین بیچ سے نصف سے دو ٹکڑے کر کے ایک، ایک کو دے دو۔اور دوسرا دوسری کو دے دو۔جو ماں تھی وہ روتی چیختی ہوئی بچے پر گر پڑی کہ میرے ٹکڑے کر دو اور یہ بچہ اسکودے دو لیکن خدا کے لیے اس بچہ کو کوئی گزند نہ پہنچے۔اس وقت حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا