تحریک پاکستان میں جماعت احمدیہ کا کردار — Page 57
۵۸ تویں فصل حضر وزارت کے استعفاء کی کانیا کوشش برطانوی حکومت تمام اختیارات ہندوستان کو سپرد کر دینے کا اعلان کر چکی تھی مگر چونکہ ائیلی حکومت کے اعلان اور وزارتی مشن کے فارمولا کے مطابق انتقالِ اقتداء ابتداء صوبوں کو ہونے والا تخت اور صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ کی بجائے یو نیست وزارت قائم تھی جس کی موجودگی میں اس صوبہ کے پاکستان میں آنے کا امکان قطعی طور پر مخدوش تھا۔اس لیے قائداعظم اور دوسرے تمام ذمہ دارسلم لیگی اس صورت حال بے حد مشوش تھے یہ ہے کہ قائد اعظم کے مشورے پر پنجاب کے مسلم لیگی اکابر نے مر خضر حیات نانی وزیر اعظم یونیسٹ حکومت سے مذاکرات کر چکے تھے مگر ان کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا تھا۔اس انتہائی نازک اور پریشان کن موقع پر چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نفس نفیس لاہور تشریف لائے اور ملک خضر حیات خاں کو مخلصانہ مشورہ دیا گرد مستعفی ہوکر مسلم لیگ اور پاکستان کے لیے بستہ صاف کر دیں۔چنانچہ آپ کی تحریک پر ۲ مارچ جس پر قائد اعظم کو خضر حیات وزارت سے سفی ہو م ۴۷ اور مسلمانان ہند نے جشن مسرت منایا۔اخبار ٹریبیون" نے در مارچ ۱ کی اشاعت میں خبر دی کہ :