تحریک پاکستان میں جماعت احمدیہ کا کردار — Page 56
۵۷ ۱۹۴۶ じ پھرنے لگا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت امام جماعت احمد به کو خبر دی گئی کہ اس شکل مرحلے کا حل آپ کے ساتھ بھی والبتہ ہے، چنانچہ آپ بعض مدام سمیت ۲۳ ر تمہبر ۱۹۴۷ء سے لیکر ۱۴ اکتوبر شاہ تک دلّی میں تشریف فرما رہے اور قائد اعظم محمد علی جناح ، نواب صاحب بھوپال، خواجہ ناظم الدین ، سردار عبدالرب صاحب نشتر ، نواب سراحمد سعید خاں چھتاری کے علاوہ مسٹر گاندھی اور پنڈت جواہر لال نمرد سے بھی تبادلہ خیال کیا۔وائسرائے ہند لارڈ ویول کو چٹھی بھجوائی کہ جماعت احمدیہ ایک تبلیغی جماعت ہے مگر موجودہ سیاسی بحران میں اس کی اصول ہمدردی تمام تر سلم لیگ کے ساتھ ہے۔ایک دوسری چٹھی میں اُن پر واضح کیا کہ اگر مسلم لیگ اور کانگریس اگرمسلم کی گفت و شنید ناکام ہوتی نظر آئے تو اسے التواء کی صورت قرار دیا جائے " دونوں سیاسی حلقے مزید غور کر سکیں۔حضرت مصلح موعوضو کی دعاؤں اور مادی تدابیر نے بالآخر کامیابی کی راہ کھول دی۔وائسرائے ہند نے یہ معمہ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور مسلم لیگ ہائی کمان نے نہایت درجہ فہم و فراست کا ثبوت دیتے ہوئے ارکانگریس سے جھونہ کئے بغیر عبوری حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ کرلیا اور اکتوبر کو اس کی اطلاع بھی وائسرائے ہند اری می بینید انتہائی غیر موافق اور خلاف توقع حالات میں ہوا اس لیے اُس نے کانگریس کے معنوں میں کھلی مچادی اور انہیں بھی پاکستان کی منزل صاف تقریب آتے دکھائی دینے لگی۔چنانچہ ہندو اخبار" ملاپ نے صاف لفظوں میں اس رائے کا اظہار کیا :- بان سمجھتا ہوں کہ یہ جواہر لال جی اور ان کے ساتھیوں کے جوش آزادی کو تار پیڈو کرنے کا جتن ہے۔" ر ۱۹۴۱ حوالہ نوائے وقت: 4 ار اکتوبر ( 1 ع کالم ۳ ) تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تاریخ احمدیت جلد دهم صفحه ۳۱۹ : ۳۳۱