تحریک پاکستان میں جماعت احمدیہ کا کردار

by Other Authors

Page 4 of 71

تحریک پاکستان میں جماعت احمدیہ کا کردار — Page 4

کے علاوہ مدینہ منورہ اور بغداد شریف کے بعض نامی گرامی علماء نے سرسید مرحوم پر کفر و ارتداد کے فتوے دیئے اور ان کی ایسوسی ایشن میں شمولیت کو نہ ام اور ہند دنوں کی آل انڈیا نیشنل کانگریس سے وابستگی کو مباح قرار دیا۔یہ سب فتر سے نصرت الابرار منظور شد میں شائع شدہ ہیں۔سرسید خاں مرحوم کے بعد تحریک پاکستان کے اکثر و بیشتر معرکے مسلم لگی عماد بالخصتیں قائد اعظم محمدعلی جناح کی سرکردگی میں لئے ہوئے اور اس سلسلے میں آخری لڑائی باونڈری کمیشن میں بحث کی شکل میں لڑی گئی۔تحریک پاکستان کے چونسٹھ سالہ دور میں تو بیشمار مراحل میں سے کاروان تربیت کو گزرنا پڑا مگر خاص طور پر یعیش ایسے انقلابی مراحل بھی پیش آئے جن میں سے ہر ایک اپنی ذات میں منتقل اہمیت کا حامل تھے اور جس کی بدولت مسلم قوم نہایت تیزی سے آگے بڑھنے میں کامیاب ہوتی رہی اور اپنوں اور بیگانوں کی شدید مزانمتوں کے باوجود اپنا ایک قومی دین بنانے میں کامیاب ہوئی۔تاریخ قیام پاکستان پر گہری نظر ڈالنے سے مندرجہ ذیل دن ایسے انقلاب انگیز مراحل کی نشان دہی ہوتی ہے :۔-1 دو قومی نظمہ پیر کی ترویج و اشاعت۔مسلم لیگ کی بنیاد اور سلم قوم کا واحد میبیسٹ فارم۔جدا گانہ نیابت کا بنیادی مطالبہ۔نہرو رپورٹ کے مخلاف سید وحید - راونڈ ٹیل کا نفرنس میںمسلم اقلیت کے حقوق کے لیے موثر آواز -