تحریک پاکستان میں جماعت احمدیہ کا کردار — Page 47
۴۸م د اور الیاسی کے امید ہ نظام میں ان کی آواز بے اثر ثابت ہوگی اور الہی سے سیاسی اور اقتصادی دستکا مسلمانوں کو لگے گا کہ اور چالیس پچاس سال تک انکا مفبھنا مشکل ہو جائے گا اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی عقل مند اس حالت کی ذمہ واری اپنے پر لینے کو تیار ہونا ) الفضل ۱۲۰ اکتوبر ۱۱۳ فر) حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ اس جماعتی پالیسی کے اعلان سے قبل اپنے ایک خط میں بھی مسلم لیگ کی تائید میں ہدایت جاری فرما چکے تھے۔اس خط کی نقل قائد اعظم محمد علی جناح کی خدمت میں بھجوائی گئی تو آپ نے امام جماعت احمدیہ کے اس فیصلہ پر خوشی و مسرت کا اظہار فرمایا اور امام جماعت احمدیہ کے الفاظ پولیس میں بغرض اشاعت بھیجوا دیئے جو ایسوسی ایٹڈ پریس آف انڈیا کے حوالے۔مسلم اخبار ڈان اوہلی نے اپنی د راکتو بر شہداء کی اشاعت میں مجھے۔جماعت احمدیہ نے اپنے دینی پیشوا کی آواز پر کس طرح شاندار طریق سے والد نہ بیک کہا اورمسلم لیگ کو کامیاب کرانے کا روح پرور مظاہرہ کیا، اس کا انداز ملبس احرار اسلام قادیان کے ایک کتابچہ مسلم لیگ اور مرزائیوں کی آنکھ مچول پر مختصر تبصره سے بآسانی لگ سکتا ہے۔یہ کتا بچہ کو تیری اور میں شائع کیا گیا اور اس میںمسلم لیگ اور جماعت احمدیہ کے قدیمی مراسم دروابط کا ذکر کرتے ہوئے لکھی ہے کہ :- بقیه صفحه سابقة مفوسا سے انتخابات کے موقعہ پر کانگرس نے کسی طرح اپنے احترام می ایجنٹوں پر روپیہ بھایا اور افراز ہوں نے بندر بانٹ کی ، اس کی تفصیل شورش صاحب کی کتاب بوئے گل نالہ دل دود چراغ ، محفل از صفحه با ۳۴ تا ۴ ۴ ماہ میں موجود ہیں۔