تحریک پاکستان میں جماعت احمدیہ کا کردار

by Other Authors

Page 46 of 71

تحریک پاکستان میں جماعت احمدیہ کا کردار — Page 46

بصیرت اور محاطه نمی کا شیوہ نہیں ہے اس کی مثال تو بالکل ایسی ہے جیسے کسی عازم کلانہ کو یہ خبر دی جائے کہ کراچی میں تیار ہے لیے " مودودی صاحب نے نظر یہ نہیں کیا ہے کہ مطالبہ پاکستان محض ایک تو می جنگ ہے اور اسلام کی لڑائی اور قومی لڑائی ایک ساتھ نہیں لڑی جا سکتی : شد جماعت اسلامی نے انتخابات کے دوران تحریک پاکستان کے خلاف جو مورچہ بندی کی تھی اس کا عملی شکریہ ادا کرنے کے لیے کانگرس کے سب سے بڑے ہندو لیڈر گاندھی جی نے پیداہر تمنا میں تقریبہ کا پروگرام ترک کر دیا اور جماعت کے اجتماع پٹنہ ( منعقدہ ۲۶ را پیریل ۱۹۴۶ شہ) میں شرکت کی اور بہت اظہار مسرت کیا۔پیٹنے کے کانگریسی اخبار تسرح الائمنٹ SEARC کے سنڈے ایڈیشن مورخہ Searchlight ار اپریل مد میں یہ سب واقعہ شائع ہو چکا ہے یہ جہاں رقائداعظم کی اصطلاح کے مطابق ) کانگرس کے سدھائے ہوئے علماء نے یری چوٹی کا زور لگایا کہ مرکزی اور صوبائی انتخابات کے ذریعہ تحریک کا نام ونشان تک ٹاڈالیں وہاں حضرت مرزا لب الدین محمود امام جماعت احمدیہ نے ۲ راکتو براہ کو یک مفصل مضمون میں اعلان کردیا کہ آئندہ الیکشنوںمیں احمدی مسلم لیگ کی تائی کرنی چاہیے انتخابات کے بندہ ایک بلا خوف تردید کانگرس سے یہ کہ سکے کہ وہ مسلمانوں کی نمائندہ ہے اگر ہم اور دوسری مسلمان جماعتیں ایسا نہ کریں گی تو مسلمانوں کی سیاسی حیثیت کمزور ہو جائے گی اور مہند دوستان ترجمان فروری ۱۹۳ در صفحه ام در تا ۱۶۰ - ه به درد اور جماعت اسلامی حصته پنجم صفحه ه ايضاً صفحه ۳ (بقیہ گلے صفحہ پہ ) 147 / P