تحریک پاکستان اور جماعت احمدیہ — Page 16
14 ڈاک خرچ پر ہی ہزار روپے سے زائد رقم خرچ کرنا پڑی۔جماعت احمدیہ نے برطانیہ کے ایک ماہر اور ممتاز جغرافیان ڈاکٹر اوسکر اینچ۔کے سپلیٹ (DR۔O۔۔۔SPATE) کی خدمات بھی حاصل کیں جنہوں نے لنڈن سے بہندوستان پہنچ کر باؤنڈری کمیشن کے دوران جماعت احمدیہ اور مسلم لیگ کے محضر ناموں اور بحث کی تیاری میں ہرممکن مدد دی اور جو خاص طور پر مسلم لیگ کے لئے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوئے۔ڈاکٹر سپیٹ کے تمام اخراجات تنہا جاعت احمدیہ نے برداشت کئے۔جہاں تک مسلم لیگ کے کیس کا تعلق ہے اس نازک ترین ذمہ داری کی ادائیگی کے لئے قائد اعظم کی نظر انتخاب احمدیت کے مایہ ناز فرزند چوہدری محمد ظفراللہ خاں صاحب پر پڑی جنہوں نے انتہائی مشکلات اور تیاری کے مختصر ترین وقت کے باوجود مسلم اقلیت کے حقوق کی ترجمانی کا حق ادا کر دیا۔آپ نے نہ صرف اپنے قلم سے مسلم لیگی زعماء کے مشورہ سے محضر نامہ کا مکمل متن تیار کیا بلکہ ۲۶ جولائی سے ۲۰ جولائی ۱۹۴۷ء تک حد بندی کمیشن کے سامنے مسلم لیگ کا نقطہ نگاہ غیر معمولی قابلیت سے نمایاں کر دکھایا۔آپ کی فاضلانہ اور دتل بحث ریڈ کلف ایوارڈ کے ریکارڈ میں محفوظ ہے اور شائع شدہ ہے۔باؤنڈری کمیشن کے اختتام پر جناب محمید نظامی نے اپنے اخبار نوائے وقت لاہور کی یکم اگست ۶۱۹۴۷ کی اشاعت میں چوہدری صاحب کی اس فقید المثال خدمت کو سراہتے ہوئے لکھا :۔" کد بندی کمیشن کا اجلاس ہوا یسنسر کی پابندیوں کی وجہ سے ہم نہ اجلاس کی کارروائی چھاپ سکے نہ آب اس پر تبصرہ ہی ممکن ہے کمیشن کا اجلاس دن دن جاری رہا۔ساڑھے چار دن مسلمانوں کی طرف سے بحث کے لئے مخصوص رہے مسلمانوں کے وقت میں سے ہی اُن کے دوسرے حامیوں کو بھی وقت دیا گیا۔اس حساب سے کوئی چار د سرمحمد ظفر اللہ خاں صاحب نے مسلمانوں کی طرف سے لے یہ قطعی شہادت اس امر پر ہے کہ احمدیوں نے میمورنڈم مسلم لیگ کی حمایت کے لئے پیش کیا تھا ہے 1