تحریک پاکستان اور جماعت احمدیہ — Page 15
۱۵ پنجاب کے جن پندرہ اضلاع کو متنازع فیہ قرار دیا ان میں گورداسپور اور لاہور کے اضلاع بھی شامل تھے حالانکہ جوان کی برطانوی سکیم یں ان کو قطعی طور پر مسلم اکثریت کا ضلع تسلیم کیا گیا تھا۔کانگریس نواز علماء ۱۹۴۵ء کے الیکشن سے یہ پراپیگنڈا کر رہے تھے کہ احمدی مسلمان نہیں اور یہ خدشہ یقینی تھا کہ ہندو یا سکھ باؤنڈری کمیشن کے سامنے اپنی بحث کے دوران یہ سوال اُٹھا دیں گے کہ احمدمی چونکہ مسلمان نہیں اس لئے ضلع گورداسپور کی مردم شماری میں ان کو مسلمانوں سے الگ کر دیا جائے تو یہ ضلع لاز نا غیرمسلم اکثریت کا ضلع قرار پاتا ہے اس لئے اسے مشرقی پنجاب میں آنا چاہیے۔اس تشویش ناک صورت حال کے پیش نظر مسلم لیگ کی ہدایت پر جماعت احمدیہ نے مسلم لیگ کے وقت میں ایک علیحدہ محضر نامہ پیش کیا محضر نامہ نہایت قیمتی بیش بہا اور مستند معلومات پرشتمل تاریخی دستاویز ہے جو شائع شدہ ہے جس میں زبر دست دلائل سے یہ ثابت کیا گیا کہ مغربی پنجاب کے تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ گورداسپور کا ضلع مغربی پنجاب میں شامل ہوتا کہ دریائے بیاس کے اس طرف جو مشرقی پنجاب کے علاقے ہیں ان کو پاکستان پر حملہ کرنے کی کھلی چھٹی نہ بل جائے۔جماعت احمدیہ کے اس محضر نامہ اور وضاحت نے ہندوؤں اور سکھوں کے اس خیال کو پاش پاش کر دیا کہ وہ کانگریسی علماء کے بل بوتے پر اس ضلع کو غیرمسلم اکثریت کا ضلع ثابت کر دکھائیں گے اور اگرچہ ریڈ کلف ایوارڈ اور کانگریس کے گٹھ جوڑ اور سوچے سمجھے منصوبہ کے نتیجے میں اس مسلم اکثریت کے صوبہ کی تین تحصیلوں اتحصیل بٹالہ تحصیل پٹھان کوٹ و تحصیل گورداسپور) کو ظالمانہ طور پر ہندوستان کی جھولی میں ڈال دیا گیا مگر ریڈ کلف اپنی ید دیانتی اور فریب کاری کے جواز میں احمدیوں کے محضر نامہ کی وجہ سے کوئی دلیل دینے کی جرات نہ کر سکا۔جماعت احمدیہ نے ضلع گورداسپور اور قادیان کو پاکستان میں شامل کرنے کے لئے دن رات ایک کر کے صوبہ پنجاب اور گورداسپور کی مردم شماری سے تفصیلی اعداد و شمار جمع کئے۔احمدی پروفیسر، ڈرامین اور نقشہ نویس پاکستانی حدود کے زیادہ سے زیادہ وسیع کرنے کے لئے سرتا پا جہاد بن گئے۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدامام جماعت محمدیہ نے امریکہ اور برطانیہ سے نہایت قیمتی باؤنڈری لٹریچر منگوایا جو ذ ریعہ ہوائی جہاز ہندوستان پہنچا جس کے