تحریک پاکستان اور جماعت احمدیہ — Page 13
1 اطلاع بھی وائسرائے ہند تک پہنچادی گئی۔پر فیصلہ چونکہ انتہائی غیر موافق اور خلافِ توقع حالات میں ہوا اس لئے اس نے کانگرس کے حلقوں میں کھلبلی مچادی اور انہیں بھی پاکستان کی منزل صاف قریب آتے دکھائی دینے لگی چنانچہ ہند اخبار ملاآپ نے صاف لفظوں میں اس رائے کا اظہار کیا :- " میں سمجھتا ہوں کہ یہ جواہر لال جی اور ان کے ساتھیوں کے جوش آزادی کو تارپیڈو کرنے کا جتن ہے" (بحوالہ نوائے وقت ۱۶ اکتوبر ۱۹۴۶ء صفحہ ۳ کالم نمبرس) خضر وزارت کے استعفاء کی کامیاب کوشش برطانوی حکومت تمام اختیارات ہندوستان کو سپرد کر دینے کا اعلان کرچکی تھی مگر چونکہ ایلی حکومت کے اعلان اور وزارتی مشن کے فارمولا کے مطابق انتقالِ اقتدار ابتداء صوبوں کو ہونے والا تھا اور صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ کی بجائے یونینسٹ وزارت قائم تھی جس کی موجودگی میں اس صوبہ کے پاکستان میں آنے کا امکان قطعی طور پر مخدوش تھا اس لئے قائد اعظم اور دوسرے تمام ذمہ دار سلم لیگی اس صورت حال پر بے حد مشوش تھے۔حد یہ ہے کہ قائد اعظم کے مشورے پر پنجاب سے مسلم لیگی اکا بر سر خضرحیات خان وزیر اعلی یونینسٹ حکومت سے مذاکرات کر چکے تھے مگر ان کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا تھا۔اس انتہائی نازک اور ظفراللہ خان صاحب بنفس نفیس لاہور تشریف ن کن موقع پر چوہدری محمد لائے اور ملک خضر حیات خاں کو مخلصانہ مشورہ دیا کہ وہ مستعفی ہو کر مسلم لیگ اور پاکستان کے لئے رستہ صاف کر دیں چنانچہ آپ کی تحریک پر ۱۲ مارچ ۱۹۴۷ء کو خضر حیات وزارت سے ستعفی ہو گئے جس پر مسلمانان ہند نے جشن مسرت منایا۔اخبار ٹریبیون“ نے ھر مارچ ۱۹۴۷ء کی اشاعت میں خبر دی کہ :- معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ خضر حیات خال صاحب نے یہ فیصلہ سر محمد ظفر اللہ خال منا کے مشورہ اور ہدایت کے مطابق کیا ہے"