تحریک پاکستان اور جماعت احمدیہ

by Other Authors

Page 12 of 19

تحریک پاکستان اور جماعت احمدیہ — Page 12

١٢ مسلمانان ہند نے ملک بھر میں یوم احتجاج منایا اور قائد اعظم نے راست اقدام کی دھمکی دی مگر کانگریسی حکومت نے جو انگریز کا واحد جانشین بنے کی خواب کو پورا ہوتے دیکھ کر نشہ میں مخمور ہوچکی تھی اس دھمکی کا جی بھر کر مذاق اُڑایا اور کہا کہ مریض گیدڑ بھبکی ہے حکومت سے ٹکر لینا آسان نہیں یہ عیش و عشرت کے خوگر بھلا جنگ ہی کہاں کر سکتے ہیں اگر لڑیں گے تو ہار جائیں گے خود حکومت بھی ان کے مقابلہ کے لئے تیار اور چوکس ہے اور وہ ان نئے سرکشوں اور باغیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی یہ له اس تاریک ترین دور میں جبکہ نہ صرف مسلم لیگ کا وقار معرض خطر میں پڑ گیا بلکہ تحریک پاکستان کا خاتمہ اور مسلمانوں کی تباہی اور بربادی کا منظر آنکھوں کے سامنے پھرنے لگا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت امام جماعت احمدیہ کو خبر دی گئی کہ اس مشکل مرحلے کا حل آپ کے ساتھ بھی وابستہ ہے چنانچہ آپ بعض خدام سمیت ۲۳ - ستمبر ۱۹۴۶ء سے لے کر ۴ اکتوبر ۱۹۴۶ء تک وتی میں تشریف فرمار ہے اور قائد اعظم محمدعلی جناح ، نواب صاحب بھوپال خواجہ ناظم الدین ، سردار عبدالرب صاحب نشتر، نواب سراحمد سعید خان پچھتاری کے علاوہ مسٹر گاندھی اور پنڈت جواہر لال نہرو سے بھی تبادلہ خیال کیا۔وائسرائے ہند لارڈ ویول کوچینی بھجوائی کہ جماعت احمدیہ ایک مذہبی جماعت ہے مگر موجودہ سیاسی بحران میں اس کی اصولی ہمدردی تمام تر مسلم لیگ کے ساتھ ہے۔ایک دوسری مچھی، میں اُن پر واضح کیا کہ اگرمسلم لیگ اور کانگرس کی گفت و شنید نا کام ہوتی نظر آئے تو اسے التواء کی صورت قرار دیا جائے تا دونوں سیاسی حلقے مزید غور کر سکیں۔حضرت فضیل عمر کی دعاؤں اور مادی تدابیر نے بالآخر کامیابی کی راہ کھول دی وائسرائے ہند نے یہ معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا اورمسلم لیگ ہائی کمان نے نہایت درجہ فہم و فراست کا ثبوت دیتے ہوئے اور کانگریس سے سمجھوتہ کئے بغیر عبوری حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔اور ۱۳ اکتوبر کو اس کی " قائد اعظم اور ان کا عہد صفحه ۷۳۹ ، ۱۷۴۰ از مولانانیس احمد جعفری ) به سے تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو کتاب "تاریخ احمدیت جلد دهم صفحه ۳۱۹ تا ۳۲۱