تحریک پاکستان اور جماعت احمدیہ — Page 14
۱۴ اخبار" ملاپ “ مورخہ ۲۰ فروری ۱۹۵۱ ء لکھتا ہے :۔" یہ ایک واضح بات ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے خضر حیات کو مجبور کر کے اس سے استعفاء دلایا۔خضرحیات کا استعفاء مسلم لیگ کی وزارت بنے کا پیش خیمہ تھا۔اگر خضر حیات کی وزارت نہ ٹوٹتی تو آج پنجاب کی یہ حالت نہ ہوتی یہ جماعت احمدیہ کی قیام پاکستان کے تعلق میں ان سب مجاہدانہ اور سرفروشانہ خدمات پر دہلی کے اخبار ریاست نے اپنے ایک ادارتی نوٹ میں طنز لکھا کہ احمدی آج پاکستان کی تائید کر رہے ہیں مگر جب پاکستان قائم ہوگیا تو دوسرے مسلمان ان کے ساتھ وہی سلوک روا رکھیں گے جو افغان حکومت نے کابل میں احمدیوں کے ساتھ کیا تھا۔اس پر حضرت امام جماعت احمدیہ نے ۱۶ مئی ۱۹۴۷ء کو ایک پر شوکت تقریر فرمائی جس میں مختلف نقطہ ہائے نگاہ سے مطالبہ پاکستان کی معقولیت و ضرورت پر روشنی ڈالی نیز اعلان فرمایا کہ مسلمان مظلوم ہیں اور ہم تو بہر حال مظلوموں کا ساتھ دیں گے خواہ ہمیں تختہ دار پر لٹکا دیا جائے حضور کی یہ تاریخی اور یادگار تقریری اہمئی ۶۹۴۷ کے الفضل میں شائع شدہ ہے۔باؤنڈری کمیشن میں کلم حقوق کی حفاظت کیلئے جدو جہد ۳۰ جون ۱۹۴۷ء کو پنجاب اور بنگال کی تقسیم کے لئے ایک حد بندی کمیشن کے تقر کا اعلان کیا گیا جسکی صدارت سرئیرل ریڈ کلف کوسونپی گئی سکھوں نے مطالبہ کیا کہ اگر مین نے مشرقی پنجاب کی حد دریائے چناب مقر نہ کی توسکھ برطانوی سکیم کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے۔باؤنڈری کمیشن نے ۱۴ جولائی ۱۹۴۷ء کے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ جو جماعتیں کوئی میمورنڈم پیش کرنا چاہیں وہ ہار جولائی تک مع چار زائد نقول اور ایسے چارنقشوں کے پیش کر دیں جن سے یہ معلوم ہوسکے کہ صوبے کی حد کس جگہ مقرر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے کمیشن نے صوبہ