تحریک پاکستان اور جماعت احمدیہ

by Other Authors

Page 10 of 19

تحریک پاکستان اور جماعت احمدیہ — Page 10

١٠ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ اس جماعتی پالیسی کے اعلان سے قبل اپنے ایک خط میں بھی مسلم لیگ کی تائید میں ہدایت جاری فرما چکے تھے۔اس خط کی نقل قائد اعظم محمد علی جناح کی خدمت میں بھیجوائی گئی تو آپ نے امام جماعت احمدیہ کے اس فیصلہ پر خوشی و مسرت کا اظہار فرمایا اور امام جماعت احمدیہ کے الفاظ پریس میں بغرض اشاعت بھجوا دئیے جو ایسوسی ایٹڈ پریس آف انڈیا کے حوالے سے مسلم اخبار ڈان (دہلی) نے اپنی در اکتوبر ۱۹۴۵ ء کی اشاعت میں چھاپے۔مسلم لیگ کی عبوری حکومت میں شمولیت کیلئے جد و جہد - تحریک پاکستان کے اعتبار سے مسلم لیگ کا عبوری حکومت میں شامل ہونا۔۴۔۱۹۳۵ء کے انتخابات لمہ کے بعد سب سے نمایاں اور سب سے اہم واقعہ ہے کیونکہ مسلم لیگ نے اس کے نتیجہ میں صرف چار پانچ ماہ کے اندر اندر پاکستان کی آئینی جنگ جیت لی اور ملک میں متحدہ دستور ساز اسمبلی کے امکانات ختم ہو جانے پر برطانوی وزیر اعظم مسٹرائیلی نے ۲۰ فروری ۱۹۴۷ء کو ہندوستان کی مکمل آزادی کا اعلان کر دیا۔اس طرح کانگریس کا یہ دیرینہ خواب کہ وہ مسلم لیگ کو نظر انداز کر کے اپنی کثرت کے بل بوتے پر پورے ملک کے نظام حکومت کو چلائے گی دھرا کا دھرا رہ گیا اور برطانوی حکومت کو بالآخر مطالبہ پاکستان کے سامنے ہتھیار ڈال دینا پڑے مگر حقیقت یہ ہے کہ عبوری حکومت میں مسلم لیگ کی شرکت انتہائی مخالف اور مایوس کُن حالات میں ہوئی جن میں نیا خوش گوار انقلاب حضرت امام جماعت احمدیہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کی دعاوں اور توجہات ہی کی برکت سے ہوا۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ پارلیمینٹری میشن نے وائسرائے ہند کے مشورہ سے ۱۶ جون ۱۹۴۶ء کو ملک میں ایک عارضی حکومت کے قیام کا اعلان کیا اورسلم لیگ اور کانگریس کے زعماء کے نام دعوت نامے جاری کئے کہ وہ اس عارضی حکومت کے مرکن کی حیثیت سے یہ قومی ذمہ داری قبول کر لیں۔اعلان میں یہ بھی