تحریک پاکستان اور جماعت احمدیہ — Page 9
رائے دہندگان کی اِس امر کے بارے میں رائے دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ کیا وہ پاکستان چاہتے ہیں یا ہندو راج کے ماتحت رہنا چاہتے ہیں۔۔۔مجھے معلوم ہے کہ ہمارے خلاف بعض طاقتیں کام کر رہی ہیں اور کانگرس ارادہ کئے بیٹھی ہے کہ ہماری صفوں کو ان مسلمانوں کی امداد سے پریشان کر دیا جائے جو ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔مجھے افسوس ہے کہ وہ مسلمان ہمارے ساتھ نہیں ہیں بلکہ ہمارے دشمنوں کے ساتھ ہیں۔یہ سلمان ہمارے خلاف مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے کام میں بطور کارندے استعمال کئے جارہے ہیں۔یہ سلمان سدھائے ہوئے پرندے ہیں۔یہ صرف شکل و صورت کے اعتبار سے ہی مسلمان ہیں " اخبار انقلاب لاہور ۱۸ اکتوبر ۶۱۹۴۵ مث ) قائد اعظم کی یہ بات سو فیصدی درست نکلی۔کانگرس نے اپنے زرخرید علماء کو تحریک پاکستان مسلم لیگ اور قائد اعظم کے خلاف پروپیگنڈا کے لئے پورے ملک میں پھیلا دیا۔جہاں قائد اعظم کی اصطلاح کے مطابق) کانگریس کے سدھائے ہوئے علماء نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ مرکزی اور صوبائی انتخابات کے ذریعہ تحریک کا نام و نشان تک مٹا ڈالیں وہاں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ نے ۲۲ اکتوبر ۱۹۴۵ء کو ایک مفصل مضمون میں اعلان کر دیا کہ :- "آئندہ الیکشنوں میں ہر احمدی کو مسلم لیگ کی تائید کرنی چاہئیے تا انتخابات کے بعد مسلم لیگ بلاخوف تردید کانگرس سے یہ کہہ سکے کہ وہ مسلمانوں کی نمائندہ ہے۔اگر ہم اور دوسری (مذہبی) جماعتیں ایسانہ کریں گی تو مسلمانوں کی سیاسی حیثیت کمزور ہو جائے گی اور ہندوستان کے آئندہ نظام میں ان کی آواز بے اثر ثابت ہوگی اور ایسا سیاسی اور اقتصادی دھتکا مسلمانوں کو لگے گا کہ اور چالیس سال تک ان کا سنبھلنا مشکل ہو جائے گا اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی عقلمند اس حالت کی ذمہ داری اپنے پرلینے کو تیار ہو (افضل ۲۲ اکتوبر ۶۱۹۲۵ مت) ہویا ص