تحریک پاکستان اور جماعت احمدیہ

by Other Authors

Page 11 of 19

تحریک پاکستان اور جماعت احمدیہ — Page 11

11 واضح کیا گیا کہ جو سیاسی جماعت عارضی حکومت میں شامل نہ ہوگی اس سے صرف نظر کر کے دوسری جماعت کے اشتراک سے عارضی حکومت بنادی جائے گی لیے مسلم لیگ نے ایک قرارداد کے ذریعہ عبوری حکومت میں شرکت پر آمادگی ظاہر کر دی مگر کانگرس نے یہ دعوت رد کر دی۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد نے اس موقع پر بیان دیا کہ : دومشن نے اعلان کیا تھا کہ اگر عارضی حکومت کے متعلق کسی پارٹی نے ہماری تجاویز منظور نہ کیں تو پھر ہم حکومت قائم کر دیں گے۔اس اعلان کے مطابق اب اس کا فرض ہے کہ وہ کانگریس کو چھوڑ کر باقی پارٹیوں کے ساتھ عارضی حکومت قائم کر دے ا سکے مگر افسوس وائسرائے ہند لارڈ ویول نے دعوت واپس لے لی جس پر مسلم لیگ کو نسل کو بھی اپنے اجلاس مبئی میں بطور احتجاج اپنی رضامندی منسوخ کرنا پڑی۔وائسرائے ہند نے جو اِسی موقع کی تاک میں تھے کانگرس سے گٹھ جوڑ کر کے پنڈت جواہر لال نہرو صدر آل انڈیا کانگریس کو عبوری حکومت کی تشکیل کی دعوت دیدی جو پنڈت جی نے فورا منظور کر لی اور اعلان پر اعلان کرنا شروع کر دیا کہ جو ہمارے ساتھ شرکت نہ کرنا چاہے ہم اُسے مجبور نہیں کر سکتے نہ اُس کا انتظار کر سکتے ہیں۔ہم دستور سازی کا کام شروع کریں گے اور عبوری حکومت کو تنها کامیابی سے چلا کر دکھا دیں گے۔ازاں بعد انہوں نے ۲ ستمبر ۱۹۴۶ء کو عبوری حکومت کا چارج بھی سنبھال لیا۔اس طرح مسلمانوں کو نظر انداز کر کے اقتدار کی پوری باگ ڈور ہندو اکثریت کے سپرد کر دی گئی اور مسلمانوں کی جیتی ہوئی جنگ بظاہر شکست میں بدل گئی اور مسلم لیگ کے لئے آبرومندانہ طور پر عبوری حکومت میں داخلہ کے سب راستے مسدود ہو گئے۔لے قائد اعظم اور دستور ساز اسمبلی صفحه ۲۳۶ - ۲۳۹ مؤلفہ محمد اشرف عطاء به PP- الفضل ۲۸ جون ۶۱۹۴۶ صفحه ۳ کالم ۴