تحریک احمدیت اور اس کے نقاد

by Other Authors

Page 70 of 104

تحریک احمدیت اور اس کے نقاد — Page 70

تک نہیں ملتا۔میں نے عرض کیا۔کہ میں قرآن مجید کی پہلی سورۃ ہی سے مہدی ویج کے ظہور کی خبر بتاتا ہوں۔آپ اھدنا کے معنے کیجئے۔کہنے لگے اسے خدا ہمیں ہدایت دے کہ میں نے پوچھا۔ہدایت پانے والے کو عربی میں کیا کہتے ہیں۔بے ساختہ ان کی زبان سے نکلا " مہدی "۔میں نے کہا حضرت ! امت محمدیہ چودہ سو برس سے مہدی بننے کے لئے دعائیں کر رہی ہے۔اور آپ فرماتے ہیں۔کہ مہدی کا تو قرآن مجید میں ذکر ہی نہیں ہے۔میں نے مزید کہا کہ آگے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ لَيْهِمْ کی دعا بھی ہے۔آپ نے کبھی اس پر بھی غور فرمایا۔تائیے معصوب کون تھے ؟ کہنے لگے یہود تھے۔میں نے سوال کیا۔وہ معصوب کیوں ہے۔کہنے لگے انہوں نے خدا کے ایک مسیح کا انکار کیا تھا نا میں نے کہا ہمیں جو یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ الہی ہمیں مغصوب نہ بنا ئیو تو کیا اس میں یہ کھلی اور واضح پیش گوئی نہیں تھی کہ خدا کا ایک اور رسی آیا اور لوگ اس کا انکار کریں گے ؟ پس سورۂ فاتہ میں نہ صرف مہدی موعود کی آمد کا واضح تصور موجود ہے بلکہ اس کے انکار کیلئے جانے کی خبر بھی پائی جاتی ہے۔یہ بات شنکر انہوں نے اپنی گفتگو کا رخ بدلا۔اور خاموش ہو گئے۔پس ہمارے لئے اس سے بڑھ کر کوئی خوشی کی بات نہیں ہوسکتی۔کہ خالص قرآن کی روشنی میں تحریک احمدیت کا تجزیہ کرنے کا فیصلہ کر لیا جائے۔کیونکہ اس فیصلہ سے بے شمار خود ساختہ نظریات پاش پاش