تحریک احمدیت اور اس کے نقاد — Page 69
۶۹ در اصل جناب پرویز صاحب کا قرآنی فکر بالکل جدا گانہ نوعیت کا ہے ان کے نزدیک رب سے مراد خدا کا قانون ربوبیت۔حق سے مراد کسی عمل کا تعمیری پہلو۔باطل سے مراد کسی عمل کا نتخریبی پہلو۔تقویٰ سے مراد معاشی پروگرام کو مستقل اقدار کے ساتھ ہم آہنگ کرنا اور الحمد للہ میں اللہ سے مراد قرآنی معاشرہ ہے۔پس اگر پورے قرآن مجید کی تفسیر ان کے مخصوص ڈھنگ کے مطابق کی جائے تو مرزائیت اور ملائیت ہی نہیں اسلام بھی معاف اللہ ختم ہو جائے گا۔لیکن اگر خالص قرآن سے مراد واقعی خالص قرآن ہی ہے تو احمدیت کا ایک ایک نام لیوا اس دن کے لئے بڑی بے تابی سے چشم براہ ہے جبکہ مسلمان قرآن کو اپنی دینی تحقیقوں اور دینی انتقاد کی بنیاد بنانے کا فیصلہ کر لیں گے۔اگر ایسا ہوا تو دنیا دیکھ لے گی کہ وہ دن احمدیت کی شاندار فتح کا دن ہو گا۔کیونکہ قرآن مجید ابتداء سے آخر تک تحریک احمدیت کے نظریات کی پوری پوری تائید کرتا ہے۔عرصہ ہوا ایک صاحب سے میری ملاقات ہوئی۔دوران گفتگو میں انہوں نے مجھ سے کہا کہ احمدیت کی تمام تر بنیاد روایات اور احادیث پر ہے۔قرآن مجید سے کسی بھی مہدی مسعود و مسیح موعود کے آنے کا اشار ے نظام ربوت صلاح تا ۸۸ ۱۷۲۱