تحریک احمدیت اور اس کے نقاد — Page 24
۲۴ نہیں کر سکتا۔جناب رحمت اللہ صاحب سبحانی لودھیالوی نے اس سلسلہ میں اپنی کتاب مخزن اخلاق میں حضرت ابو الحسن شرقانی " کا یہ عجیب واقعہ لکھا ہے کہ ایک دفو سلطان محمود غزنوی نے ان سے کہا کہ کچھ با یزید کی باتیں سنائیے فرمایا کہ با یزید نے کہا ہے کہ جس شخص نے مجھے دیکھا شقاوت سے محفوظ رہا۔محمود غزنوی نے کہا۔کیا وہ پیغمبر خدا صلے اللہ علیہ وسلم سے بھی افضل تھے۔کہ ابو جہل اور ابو لہب نے ان کو دیکھا اور شقی کے شقی ہیں۔ہے ؟ حضرت ابو الحسن خرقانی نے فرمایا۔ابو جہل نے اپنے بھتیجے محمد ابن عبد اللہ کو دیکھا تھا۔نہ کہ محمد رسول اللہ کو لے اسی طرح یکی بھی کہتا ہوں کہ مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی نے اپنے ایک ہم مکتب مرزا غلام احمد کو دیکھا۔اگر وہ مرزا غلام احمد سیح موعود کو دیکھتے تو ایسا ہر گز نہ کہہ سکتے تھے۔احمدیت کے مختصر تعارف ، اس کے خلاف طوفان کا پس منتظر اور حقیقیت تنقید پر روشنی ڈالنے کے بعد اب میں اپنے مضمون کے اس دوسرے اور اہم حصہ کی طرف آتا ہوں کہ تحریک احمدیت کے مشہور نقاد کون سے ہیں ؟ اور ان کا انداز انتقاد اور اس کی روح کیا ہے ؟ سویا د رہے جیسا کہ میں ابتداء عرض کر چکا ہوں کہ احمدیت چونکہ ایک بین الاقوامی تحریک ہے۔اس لئے اس کے نقادوں کا دائرہ بھی عامل گیر وسعت رکھتا ہے۔مگر چونکہ مجھے صرف اجمالی رنگ میں ایک خاکہ پیش کرنا ہے