تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 630 of 736

تحدیث نعمت — Page 630

کھانے کی دعوت کا انعام فرمایا تھا اور میں شمولیت پر انہیں اصرار تھا۔انکار کی گنجائش نہ تھی۔اسلئے مدینہ شریف کاسفر المغرب شروع ہو کر نصف شب سے ڈیڑھ ساعت بعد تم ہوا۔فالحمالدہ سڑک پختہ نے سے پہلے انٹ کی سواری سے یہ فرماں دن سے لیکر 14 دن میں کٹتا تھا۔ه دورهمی در جیب خدا رااااااااااا وانا ان کے نجاتی نفل ادا کرنے کی سعادت نصیب ہوئی مسجد نبوی سے جنت البقیع حاضر ہوئے۔حضرت عثمان کا علمی ، رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی رضاعی والدہ) عثمان بن مطعون ، ابراہیم (فرزند رسو الله صل اللہ علیہ وآلہ وسلم) عبدالرحمن بن عوف اہل بیت الالالا لال مروان التعلیم کے مارا پر راتینین مزاروں پر دوعا پر دعاء کا موقعہ نصیب ہوا۔میدان احمد سے والہ سے واپسی جوم ہوتاہے ان کا اظہار ملتانی مرحوم نے اس رسے کرنے کی کوشش کی ہے جوانہوں نے مدینہ منورہ میں قیام کے دوران مں کہا :- ہر راہ کو دیکھا ہے محبت کی نظر سے نہ شائد کہ وہ گذرے ہوں اسی راہ گذر سے ور سے تویہ ہے کہ دین منور میں نام وقت ہی درخصوص روضہ اطہر کے قر میں دل کی جو کیفیت ہوتی ہے اس کا اظہار الفاظ میں مکن نہیں۔کی صبح کونماز فجرکے بعدہم جدہ واپسی کےسفر پر روانہ ہوگئے۔رستے میں بدر کے مقام کے قریب ترک کہ سنگ کا مقام دیکھا۔یہ جنگ جین میں قریش کی طرف سے ایک ہزار تجربہ کار جنگ آزموده با ر ہتھیاروں سے پوری طرح ملی نبردآزما تھے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ سلم کے ساتھی صرف ۳۱۳ افراد جن کے سموں پر پورا لباس نہ تھا، ہاتھوں میں پورے اسلحہ نہ تھے اور جن میںسے کچھ توفن حرب سے واقف تھے اور کچھ بالکل نا تجربہ کار لڑکے تھے۔اپنے تاریخ کے لحاظ سے دنیا کی تاریخ میں سب سے قاطع اور فیصل کی جنگ تھی۔ظاہر بین آلو طرفین میں کسی سم کی نسبت نہیں پاتی تھی لیکن حقیقت میں گرمی یہ معاملہ ایک طرف ادی طاقت رکھنا اور دوسری طرف الدلالی پر یقین کامل می ری را در این کے درمیان فیصلہ کن جنگ تھی۔اگر اس دن بفرض محال کفر غالب آتا تو جیسے رسول اکرم صلی الہ علیہ نظم نے جنگ شروع ہونے سے پہلے حضرت احدت میں مناجات کرتے ہوئے عرض کیا تا اللہ جل شانہ کی عادت روئے زمین سے تا ابدم و تو برسوں پہلے پنے رسول اورمحبوب سے فرما کا ناوروعدہ کر چکاتھا سین الجمع ولولا الدین یا ان سے اللعالی نے جو علم و دیے رمایا تھا ویسے تو اللہ تعالی کے قول کو سرفرازی ہوئی۔چندگھنٹوں کے اندر قریش کا غرور و تکرار کے میدان میں خاک نون میں ملیامیٹ ہو کر رہ گیا۔دو پر کے کانے تک ہم لفضل الشد بیت جدہ واپس پہنچ گئے وار کی صبح کومیں آخری بار شمر وا