تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 631 of 736

تحدیث نعمت — Page 631

کرنے کے لئے بیت اللہ کے صحن میں حاضر ہوا۔مکہ معظمہ سے واپسی پر برے سے بیروت کے ہوائی سفر پر روانہ ہوا۔سفر کے دوران میں دل میں پیہم جذبات کا ایک عالم بر پارا اور آنکھوں سے آبشار جاری رہی اور تدبیری حسرت قلب کا اظہار ان پر سو الفاظ میں ہوتا رہا سے پریدم سوئے کوئے اور مدام 4 - من اگر سے داشتم بال دیر سے یک امریکی ادارے کی خورانی ISLAM-ITS MEANING FOR MODERN MAN کی تصنیف REL PERSPECTIVES کی ایڈیٹر انچیف میں کے اصرار سپر اس نام کے سلسلہ تصنیفات میں اسلام پر ایک مختص کتاب تیار کیا منظور کر لیا اس کتاب کا مسودہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی دی ہوئی توفیق سے عدالت کی اس سال کی گرمیوں کی تعطیل میں مکمل ہو گیا ارسال کے اختام سے قبل نظرثانی اور اصلاح کے بعد میں نے اسے ڈاکٹر انیشن کی خدمت میں ارسال کر دیا۔انہیں کتاب اطمينان کا مسودہ اسقدر بدلنے کی توقع نہیں تھی۔انہوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا اور تھوڑے عرصہ بعد مسودے کے متعلق بہن نے ندگی کا کیا انہوں نے لکھاکہ ایرانی و ناشران کے اسلامیات کے ماہر مرنے مصور کوبہت پسند کی ہے ڈاکٹر نمیشن نے طباعت کے پروگرام میں میں میری اس کتاب کی باری بھی تھی اس کے انتظار میں قریب ایک سال گزر گیا اپنی باری پر ر کے آخرمیں یہ کتاب چھپ کر شائع ہوئی۔ناشران نے ڈاکٹر انیشن کے مشورے کے ساتھ اس کا نام ISLAM - ITS تجویز کیا۔اللہتعالیٰ نے محض اپنے فضل سے اس سعی کو میری توقع سے بہت بڑھ MEANING FOR Modern Man کر قبولیت بخشی فالحمد لله - جب اکتوری شام میں جو کے انتخاب کانتیجہ معلم ہوگیا میں نے پنے آئندہ پروگرام پر غور شروع کیامی نمبر اء سے ذیا بطیس کے عارضے میں مبتلا چلا آرہاہوں اسماء کے اپریل سے انسولین کا یہ لازم ہو گیا ہواہے۔گرمی زیابطیس کے عارضے کے لئے مضر اثر رکھتی ہے۔سردی اسکے لئے فائدہ مندہے مجھے اللہ تعالی کے فضل سے ہ سے عشاء تک وطن میں ی گرمیوں کا اس میدان میں گزارنے کا الفت نہیں ہوا تھا۔پکستان کی وزارت خارجہ کے سا سالوں میں متواتر سردیوں کے وسم کا زیادہ حصہ برون مک امریکہ اور میں گزارنے کا اتفاق ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا را گرامی می گریون می درجہ حرارت چناب کے برابر تونہیں ہوتا لیکن پر بھی الطیف فرد محسوس ہوتی ہے اور مجھے ہی اسے پہلے پندرہ سال تک میدانی موت کیا کا سامانہ ہواتھی سے اب تک گرمیوں کا موسم کراچی میں گذرنے کا میر بیماری پر ان اشہ ہوا کہ میرے ان تین کے ٹیکے کی مقدار ہو یونٹ سے بڑھتے بڑھتے ایونٹ تک پہنچ گئی۔ہیگ میں کچھ عرصہ ٹھہرنے کے بعدیہ مقدار کم ہونا شروع ہوئی۔کچھ توگری سے بچا رہتا تھا ور کچھ زندگی کا اسلوب بہت سادہ اور باقاعدہ ہوگیا تھا۔یہ بھی ذیابطیس کے مرضی کے سے بہت نانے کا موجب ہوتاہے ملک کی مقدر کم ہوتے ہوتے شاہ کے آخر تک چھوٹ پر آگئی تھی۔دس لوٹ سے کم کا کیک توعام طور پر تیزی نہیں کیا جاتا۔اسقدر انولی کی اگر ضرورت نہ ہے تو پھر توقع کی جاتی ہے کہ مریض کھانے پینے کی