تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 629 of 736

تحدیث نعمت — Page 629

۶۲۹ حاصل کی ہار کی رات مکہ معظمہ میں قیام رہا۔9ار کی صبح کو تیری بار حرم کعبر من طواف اور نوافل کی ادائیگی کا موتو نصیب یل نوری ہے، اگر ہوسکے تومان تور کوبھی خواہ دوری سے تو دیکھا چاہیے۔سپر نٹنٹ صاحب کوغار ثور کا مقام معلوم نہیں تھا ور کار کے شور کور کے لفظ سے کچھ پتہ نہیں لیا تھا۔ان سب میں نےاپنی ناقص عربی میں تایا وہ فارسی میں ہجرت کے موقع پر رسول اله صلی الہ علیہ سلم اور حضرت ظاہر کیا کہ وہ مطلب مجھ گیا ہے۔وہ ہمیں پہاڑ کے دامن تک ے گیا غار میں داخلے کا مقام وہاں سے نظر آتا تھا لیکن وہ سٹرک سے کے نکلے غارمیں بہت بلندی پہ تا سورج کی تماز تیز مری کی تھی اسے ہم نے یے سے دیکھ لینا کی نیت سمجھ اور ہیرے کی جانب روانہ ہوگئے جلالة الملک سلطان سعود سے شرف ملاقات | دوسے دن معلوم ہوا کہ علالت المل نے مجھے ریاض طلب فرمایا ہے چنانچہ میں اور مارچ کو ریاض حاضر ہوا۔حلالہ الملک سلطان عبد العزیز ابن سعود کے حالات میں پڑھا تھا کہ جب کویت سے نکل کر انہوں نے ریاض کو تیر کی اس وقت ریاض ایک کی دیوار سے گھر ہوا قصبہ تھاجس پر اپنے چند جانباز مراہوں کے ساتھ رات کے وقت دیوار پھاند کر سلطان عبد العزیز نے قبضہ کیا تھا۔لیکن دو ریاض اور تھا اور ان کے فرزند لانہ الملک سعود کا دارالحکومت ریاض اور تھا۔جو ریاض میں نے دیکھادہ ریگستان کے درمیان امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے شہروں یان ایک شہر کو دیوار گھرے ہوئے تھے کے ان کی قسم کا ہی نہیں تھی بھی صورت بعدی کویت میں رکھی ۱۹۳ ء میں جب میں نے کویت کی ایک رات عبد کی توکوی بھی ایک کمی کی دیوار سے گھرا ہوا قصبہ تھا۔۲ ۲ سال بعد جب مجھے پھر کوت میں بھرنے کا موقعہ ہوا تو کوی گود میں سے اعلان کر یہ آمد و چکاتھا۔اگر یہ ریاضی کی اس (امریکی ) کے شہروں کا مقابلہ کرتا ہے لیکن ٹیکس کے شہروں کی کوئی عمارت بھی ریاض کے محلات شاہ کی ہمسری کا دعوی نہیں کر سکتی۔علاقہ الملک بہت تواضع سے پیش آئ اور بڑی ذرہ نوازی کا لوک روا رکھا جار الله امیر علی ان ایام میں ناساز ی طبع کے باعث باہر ریگستان میں تھے اسلئے ان کی خدمت میں حاضری کا موقع نہ مل سکا۔عبد الوہاب عزام صاحب دریاض میں عبدالوہاب عزام صاحب سے مکر بہت خوشی ہوئی۔وہ پاکستان میں سے ریاض میں ملاقات سفر مصر کے عہدہ پر ناز رہ چکے تھے۔بہت علم دوست تھے۔انہوں نے علامہ ڈاکٹر رہے سرمد اقبال کے فارسی کلام میں سے منتخبات کاعربی میں ترجمہ کیا ہے۔جب میں ریاض حاضر ہوا وہ وہاں کے دارالعلوم کے ریکٹر ( PECTOR) تھے اور مختلف شعبوں کوترتیب اور نظم میں نہ تھے۔افسوس کہ مرے روانہ کیاور تھوڑا عرصہ بعد داعی اجل کو لبیک کہا۔اللہ تعالی مغفرت کرے۔۲۲ مارپت کو میں ریاض سے عدسے واپس آیا اور بعد مغرب طواف اور نوافل کے لئے پھر تیم حاضر ہوا۔۱۲۳ کی س پر کومدینہ منورہ حاضر ہونے کا ارادہ تھا لیکن اردن یوم پاکستان کی تقریبمیں خواجہ مان نے وسیع پیمانے پر شام کے