تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 514 of 736

تحدیث نعمت — Page 514

Minion مال الناس میں واضح طورپر لکھا تھا کہ آزادی حاصل ہونے کے بعد مہارت ایک رومی پبلک ملک ہوگا اور ان دونوں دولت مشترکہ میں ایک ری پیکٹ کی شمولیت کا توانہ موجود نہ تھا۔ہندوستان کی وحدت کے قیام میں ناکامی کے بعد لارڈ مونٹ بیٹن کی بڑی خواہش تھی کہ کس طرح کانگریس بھی برطانوی دولت مشترکہ مں شامل رہنا منظور کرے۔ایسا ہونے سے مونٹ مینٹین کی وہ خفت بھی مٹ سکتی تھی جو اپنے مقصد اول میں ناکام رہنے کی صورت میں لازمی تھی۔کانگریس لیڈر بھی اتنے نادان نہ تھے کہ انہیں اپنے برے بلے کی تمیز نہ ہوتی۔وہ دیکھ رہے تھے کہ مونٹ بیٹن ان کا طرفدار ہے اور اس سے بنائے رکھنے کی افادیت ان پر ظاہر تھی۔وہ خود بھی کسی ایسے فارمولے کی تلاش میں تھے جس سے مجلس رستوران کی قرارداد مقاصد کے باوجود ہندوستان کا برطانیہ سے گہراتعلق قائم رہ سکے۔حکومت ہند کے ایک ہندو افسر وی پی مین تھے بوسہ دار پٹیل کے بڑے معتمد تھے۔مونٹ بیٹن نے آتے ہی انہیں اپنے خالی تھی عملے میں شامل کر لیا تھا اور رفتہ رفتہ وہ ان کے بھی معتمد ہوگئے تھے۔قرار داد مقاصد کی روک کو راستے سے ہٹانے کی غرض سے دی پی مین نے ایک سکیم تیار کی جس کے تحت لک کی تقسیم ہو کہ انتقال اختیارات دونوں ملکوں کو قتی طور پر O MINION STATUS کی بنیاد پر کئے جانے کی تجویہ تھی۔مونٹ بیٹن نے وی پی مین کے ذریعے کانگریس کو پیشکش کی کہ اگر کانگرس یہ کیم منظور کرے تو وہ بون سوار سے پہلے ہی اختیارات منتقل کر دیں گے۔منی شد کے دوسرے ہفتہ میں شملہ میں اس پیشکش پر یونٹ بیٹن اور کانگرس لیڈران میں سے پنڈت نہرو اور کرشنا مین کے مابین گفت و شنید ہوئی اور ایک خفیہ سمجھوتا ہوا جس کے روسے کانگریس نے اس پیشکش کو ان تین شرائط پر منظور کیا جس کا ذکر پہلے آچکا ہے یعنی اول انتقال اختیارات دومینوں کے اندر انا مکمل کر دیا جائے دو منصوبہ نکال کی تقسیم ہونے پر کلکتہ ہندوستان میں شامل کیا جائے اور سوئم صوبہ چناب کی تقسیم اس طور پر کی جائے کہ ضلع گورداسپور کی تفصیلات گورداسپور بٹالہ کو بوسلم اکثریت کے علاقے تھے ہندوستان میں شامل کیا جائے۔مونٹ بیٹن نے تینوں شرائط منظور کر لیں۔پہلی شرط میں جو مطالبہ کیا گیاوہ مصر کی غیر معقول تھا۔دو مہنیوں کا عرصہ تو ایک متمول خاندان مشترکہ یا ایک کامیاب کاروباری شراکتی ادارے کی تقسیم کے لئے بھی کافی نہیں ایک عظیم ملکی تقسیم کے لئے کس طرح کافی ہوسکتا ا دریا پار کرنے والوں کی من و یا ای اور کا تجرید رکھنے والے مونٹ بیٹن کا اس غیر معقول شرط کو منظور کر بین ظاہر کرتا ہے کہ خون کی نیت بھی بھی تھی۔کانگریس لیڈروں اور منٹ میں دونوں کو توقع تھیکہ عمل قیم میں اس جلدبازی سے جو گیری پیا ہو اس کے نتیے میں نوزائیدہ ملکت پاتا ے ایسی ایسی اپا مار کھڑی ہوں گی کہپاکستان کا قیام نامکن ہوجائے اورمسلم لیگ و مجبور ہندوستان کی سالمیت براہ رہنے پر آمادہ ہونا پڑے گا۔یہ توقفت والی تھی کہ پنجاب اور دلی میں غیرمسلموں اور بالخصوص سکھوں نے مسلمانوں کا ہجو قتل و غارت برپا کیا اس کے باوجود اور دیگر جملہ نامساعد حالات کے باد صف پاکستان کا قیام عمل میں آگیا اور مخالفین تھا۔