تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 513 of 736

تحدیث نعمت — Page 513

۵۱۳ اٹھایا۔قائد اعظم توخوشامد کے فن سے بالکل ناآشنا ایک سیدھے سادھے مگر انی و ھن کے پہلے انسان تھے لہذا دره مونٹ بیٹن کے ذوق خود پسندی کی تشکین کا سامان فراہم نہ کر سکے۔اس کے برعکس انہوں نے منتقل مزاجی سے ملک کی تقسیم کے موقف پر قائم کرہ کرمونٹ بیٹن کے اولین مقصد یعنی براعظم کی سالمیت کوناکام بنا دیا اور نہیں ان کی اور برطانوی پیر وزارت کی مرضی کے خان تقسیم ملک پر مجبور کر دیا۔اس شکست سے مونٹ بیٹن کے پندار کو سخت ٹھیس لگی اور ان کے دل میں قائد اعظم اور ان کے مطالبہ پاکستان کے خلاف گرہ مٹھ گئی۔قائداعظم کو تقسیم ملک کے مطالبے سے باز رکھنے کی نیت سے کانگرس نے جوابی مطالبہ کیا ہوا تھا کہ اگرملک ہواتھا تقسیم ہوتاہے تو پر پنجاب اور بنگال کے صوبوں کی بھی تقسیم و کرمسلم آبادی والے علاقے علیحدہ ہونے چاہئیں۔ن بین قائد اعظم کو کسی طرح بھی تقسیم ملک مطالبہ کو تر کرنے پر آمادہ نہ کرسکے تو انہیں ان کے انگریز فسران نے جنہیں وہ انگلستان کے ساتھ ان کے مشورہ دیا کہ وہ قائداعظم کوصاف صاف الفاظ مں دھمکی دی کہ اگر وہ کینٹ مشن کی تجاویہ پر عمل پرا ہونے پر رضامند نہیں ہوتے تو پھر ملک کی تقسیم کی صورت میں بنگال اور پنجاب کے صوبے بھی ان ما تقسیم کئے جائیں گے۔کانگریس کے چوٹی کے لیڈران کی طرف سے بھی انہیں میں شور نہ دیاگیابلکہ امید ظاہر کی گئی کہ جب بنگال اور پنجب کے مسلمان اپنے صوبوں کی تقسیم کو ناگزیر پائیں گے توہ قائد اعظم کا ساتھ چھوڑ دیں گے اور پاکستان کا خواب شرمندہ تعبر نہ ہوسکے گا۔ان مشوروں پر عمل کرتے ہوئے ونٹ بیٹن نے قائداعظم کو بہت ڈرایا دھمکایا لیکن وہ ان کے آہنی ارادے کو متزلزل نہ کرسکے۔قائد اعظم نے بہ امر مجبوری بنگال اور پنجاب کی تقسیم منظورکر لیا لیکن مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ آزاد مملکت کا طالت تیرک کیا شنگال اور پنجاب کے مسلمانوں نے ان صوبوں کی تقسیم کے نیلے کے باوجود قائداعظم کا ساتھ نہ چھوڑا ادرک نارس کانگریس یڈروں کی مسلمانوں میں پھوٹ پڑ جانے کی امیدیں خاک میں مل گئیں۔یک کانگریس لیڈر نے منٹ بیٹی کو یہ مشورتی دیکر ملاوں کا نیم ملک کا مطالبہ نا منظور کر لیاجائے لیکن بنگال اور پنجاب کے صوبوں کی تقسیم اس طرح کی جائے کہ پاکستان ایک علیحدہ آزاد ملک کی صورت میں زیادہ دیر قائم روکنے کے قابل نہ ہے اور سم ایک مجبور ہوکر از نور انڈین یونین مں شامل ہو جانا منظور کرے۔مونٹ مین کو یہ تجویز برای دانشمندان معلوم ہوئی جس سے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے اور اس نے اس پر عمل کرنے کا م ارادہ کر لیا۔یہ مکت عملی اختیار کرنے کے رستے میں مونٹ بیٹن کے لئے ایک لڑکی وقفت حائل تھی۔امیلی کی وزارت کی طرف سے اسے ہدایت تھی کہ اگر مل کو تقسیم کر نا ڑے تو کوشش یہ ہونی چاہیئے کہ دونوں ملک برطانوی دولت مشتر کہ میں شامل رہیں۔قائد اعظم تو اونٹ بیٹن سے کہ دیکھے تھے کہ پاکستان در این ترکہ میں شامل رہے گا۔لیکن کانگریس نے ہندوستان کی دستور سانہ اسمبل سے جو قرار داد مقاصد منظور کرائی تھی اس