تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 515 of 736

تحدیث نعمت — Page 515

۵۱۵ پاکستان کی توقعات پوری نہ ہو گئیں۔شملہ میں ہونے والے خفیہ سمجھوتے کی بین شرائط کا اوپر ذکر کیا گیاہےان میں سے پہلی دو شر الا نواب سکی تھی ہیں کیو کی تقسیم کے بعد ہ دار پیٹ نے جو کانگریس کے چوٹی کے لیڈروں میں سے نسبتا صاف گو تھے اپنی پلک تقریری میں تسلیم کیا ہےکہ ان کی طرف سے یہ شرائط پیش کی گئی تھیں اور ان کے مانے جانے کے بعد ہی انہوں نے ملک ی تیم منظور کی تھی۔کلکتہ کے تعلق سردار پٹیل کے مذکورہ بالا اعتراف کے علاوہ مونٹ بیٹن کے چیف آف سٹاف لارڈ اسمے نے اپنے ME MOIRS میں تسلیم کیاہے کہ تقسیم مک کی سب بتونیہ کی منظوری برطانوی وزارت سے حاصل کی گئی تھی اس کے مطابق کلکتہ کو ہندوستان میں شامل رکھا گیا تھا یہ بات مسلم لیگ سے ی دکھی کی اور ظاہرہ کیاگیا کہ کلکتہ کےمتعلق فیصلہ باؤنڈری کمشن کرے گا۔چنانچہ باوجود اس کے کہ کہ ہندوستان میں شامل رکھنے کا فیصلہ بالا بالا ہو چکا تھا اور بہر طانوی کینٹ اس پر صاد کر چکی تھی ظاہر طور یہ اس تنازع کو بھی بنگال باؤنڈری کمشن کے سپرد کیا گیا اور ریڈ کلف سے کلکتہ کے متعلق فیصلہ ہندوستان کے حق میں کرایا گیا۔صرف بھی ایک بات ریڈ کلف ، مونٹ مین اور خود اٹلی کی وزارت کی جانداری کا پول کھونے کے لئے کافی ہونی چاہئے۔شمل میں ہونے والے خفیہ سمجھتے کی تیسری شرط ریاست جموں و کشمیر پر تسلط ائم کرنے کی غرض سے تھی اس شرط کو پورا کرنے اور تحصیلت گوردی اسپو ہ اور شمالہ کو جہاں مسلم آبادی کی اکثریت تھی ہندوستان میں شامل کرنے کیلئے ہو پاپڑ لے گئے ان کا تفصیل سے پہلے ذکر کیا جا چکا ہے۔ریڈ کلف کے لئے پر دانہ کی ہدایات والی لائن اور ریڈ کلف کے فیصلے کے مطابق مقرر کی جانیوالی حدیدی لائن میں تھوڑا اسافرق تھا۔اول الذکر کے مطابق مسلم آبادی کی اکثریت والی تحصیلات فیروز پور اور زیرہ بستان پاکستان کے علاقے میں شامل تھیں لیکن موخر الذکر حد بندی کے مطابق وہ دونوی تحصیلات بھی ہندستان کے علاقے میں شامل کر دی گئیں۔اس بات کا ناقابل تردید ثبوت موجود ہے کہ یہ تبدیلی جو ہندوستان کے متقی ہیں اور پاکستان کے مفاد کے مزید خلاف بھی ریڈکلف سے ۸ اگست کی شاید کے دو ایک روز بعد کرائی گئی۔ان دنوں پنجاب کے گورنہ سرابوں جنکنز تھے۔سکھوں سے ان کی ہمدردیاں مسلمہ ہیں۔اور ان پر رہی کیا موقوف تھا خود مونٹ بیٹن اور اس کے عملے کے انگریز افسران بالخصوص لارڈ اسے سکھوں کی فوجی خدمات کی وجہ سے سکھ مفاد سے گہری دلچسپی رکھتے تھے اور سب خواہشمند تھے کہ کسی طرح سکھوں کی امداد کی جائے۔سکھوں کی طرف سے زور دیا جار ہا تھا کہ پنجاب کی تقسیم پر پہنری نو آبادیات جن کی اراضیات کی آباد کاری میں انہوں نے بہت محنت کی ہے ہندوستان میں شامل کئے جائیں۔گورنہ جنکنز کے خیال کے مطابق سکھوں کا یہ مطالبہ بالکل غیر منصفانہ نہ تھا گورنر جنکنز کے استغفار کے جواب میں موسٹ بیٹن کے پرائیویٹ سیکریڑی