تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 496 of 736

تحدیث نعمت — Page 496

کا اجلاس طلب کیا ہے۔اگر پارٹی کے ساتھ گفتگو کے بعد میں اسی رائے پر قائم رہا تومیں آج شام پھر آپ سے ملنے کیلئے آؤں گا اور اپنے فیصلے سے آپ کو مطلع کردوں گا۔گورنر صاحب نے فرمایایہ امر خالعہ آپ کی مرضی پر موقوف ہے۔حالات کے پیش نظریں آپ کی راہ پر کوئی اثر ڈالنا نہیں چاہتا لیکن کی ہیں نے فرمایا کہ فیصد تو جو کچھ ہوگا میرا ان ہی ہوگا لیکن وزیر اعظم اٹلی کے اعلان کے نتیجے میں مجھے ظفر اللہ خان نے توجہ دلائی ہے کہ مجھے ایسا کرنا چاہیئے۔پارٹی کا اجلاس تین بجے سہ پہر سے پچھ سات بجے تک رہا۔میں تو اس میں شامل نہیں تھا لیکن کبھی کبھی میرے کمرے تک آواز پہنچتی تھی جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ خاصی گرم محبت ہورہی ہے۔شام کے کھانے پر ملک صاحب نے بتایا کہ پارٹی کے غیر لم اراکین ان کے فیصلے پر بہت زدہ ہوئے اوراپنے اپنے زاویہ نگاہ انہیں سمجھنے کی کوشش کرتے رہے کہ ان کا مجوزہ اقدام درست نہیں لیکن انہوں نے غیرمسلم اراکین و سے صاف صاف کہ دیا کہ برطانوی وزیر اعظم کے اعلان کے بعد ان کے لئے اور کوئی راستہ کھلا نہیں رہا۔کھانے کے بعد ملک صاحب گورنر سے ملنے کے لئے تشریف لے گئے اور اپنا استعفی پیش کر دیا اور ساتھ ہی گور نر صاحب کو مشورہ دیا کہ نواب صاحب ممدوٹ کو بحیثیت تان مسلم لیگ پارٹی دعوت دیجائے کہ وہ نئی وزارت تشکیل کریں ار دعوت دکھا ٹی ملک صاحب کے استعفے کا اعلان ریڈیو پر ہو گیا مسلم لیگ حلقوں میں اس خبر سے خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی اور صبح ہوتے ہی شہر بھر میں خضر حیات زندہ باد کے نعرے بلند ہونے لگے۔راجہ غضنفر علی صاحب اور سہ دار شو کر حیات خاں صاحب کی سرکردگی میںبہت سے سلم لیگ کے سرکردہ اصحاب ملک صاحت کے بنگلے پرتشریف لائے انہیں ماریا دی گلے لگایا اور پھولوں کے ہار پہنائے۔اس کے برعکس غیر مسلم حلقوں میں بہت بے چینی پھیل گئی اور ان کی طرف سے مخالفانہ مظاہرے شروع ہو گئے۔یہ دو صوبے بھر میں پھیل گئی اور بعض مقامت پر افسوستاک فرنه دارانه دارد ایں بھی ہوئیں۔میں اس دن واپس دلی چلا گیا۔" صوبائی سلم لیگ قیادت کی طرف سے ملک صاب پر زور دیا گیا کہ مسلم لیگ پارٹی میں شام ہو جائیں۔اندی نے وضاحت سے فرما دیا کہ وہ سیاسیات سے الگ رہنا چاہے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ انہیں وزارت یا کسی سیاسی اعزاز یا نصب کا خواہش مند سمھا جائے مسلم لیگپارٹی کے تعلق انہوں نے ان ای یو ای کا اور یوں دیدیا کہ انہو نے نواب مظفر علی قزلباش کو مشورہ دیا کہ سلم لیگ پارٹی میں مال و جائیں بین این دو شامل ہوگئے۔ملک سر ضربات صاحب کا پہلا موقف درست تھا یا غلط۔لیکن اس میںکسی شک کی گنجائش نہیں کہ اس مرحلے پر انکا استعفیٰ دیدیا ایک نہایت قابل ستائش فعل تھا جس کے نتیجے میں صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ کا راستہ صاف ہو گیا اور پاکستان کے