تحدیث نعمت — Page 497
وم استحکام کی صورت پیدا ہوگئی۔اگر وہ ایسا نہ کرتے تو بہت سی مشکلات کا امکان تھا۔اس کے مقابل پر پاکستان کے قیام کے بعد ملک صاحب کے ساتھ وہ انصاف اور حسن سلوک روا نہ رکھا گیا جس کا ہر شہری بلا امتیانہ مقدار ہے۔لار ڈھونٹ بیٹن کا بطور وائسراے تقریر | کارڈ مونٹ میٹین وائسرائے بنکر آئے تو آزادی کے متعلق ضروری انصرامات اور درمیانی مراحل جلد جلد طے ہونا شروع ہوئے ہ کے دوران میں کیا کیا اتار چڑھاؤ ہوئے کیا کیا ہیں چلی گئیں۔کونسے منصوبے کامیاب ہوئے اور کونسے ناکام۔بنی نوع انسان کا کن این پروٹیوں اور کن پست وادیوں سے گذر ہوا اور یہ سال اپنے پیچھے کتنی تلخ یادیں اور منحوس در تے چھوڑ گیا انکا شمار کرنا اور ان کی صحیح تصویر پیش کرنا ایک یا اتار راست گو محتی اور خداتریس مورخ کو چاہتا ہے جو کسی وقت ضرور پیدا ہو گا۔ملک کے منصوبے کے اعلان پیپر میرا پر طانوی وزیر اعظم نے اپنے سر سجون شاہ کے بیان میں انڈین فیڈرل کورٹ سے استعفے تقسیم ملک کے منصوبے کا اعلان کر دیا۔اس اعلان کے ہوتے ہی میں نے فیصلہ کر لیا کہ مجھے فیڈرل کورٹ آف انڈیا سے علیحدہ ہو جانا چاہیے چنا نچہ میں نے اپنا استعفے بھیج دیا که ارجون سے میں عدالت سے علیحدہ ہو جاؤں گا۔اس وقمرا ارادہ تھا کہ تقسیم کےبعد میں سے کی طرح لاہور میں کلات کردوں گا لیکن اتفاق ایسا ہوا کہ ان دنوں ہزہائی نس نواب سرحمید اللہ خان صاحب والئی جو بال دلی میں فروکش تھے۔جب انہیں میرے ارادے کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے فرمایا تم کچھ عرصے کیلئے میرے پاس بھو پال آجاؤ تاکہ میں اس مشکل مرحلے میں جود الیان ریاست کو در پیش ہے تم سے مشورہ کر سکوں۔نواب صاحب کی طرف سے میں سے بھی بہت کریمانہ الطاف کا مورد رہا تھا اسنے ان کا ارث میرے لئے واجب التعمیل تھا۔چنانچہ میں فیڈرل کورٹ سے علیحدہ ہوتے ہی بھوپال چلا گیا ہو کہ بھی صحیح اندازہ نہیں تھاکہ جو پل میںکتنا عرصہ قیام ہوگا اور اس کے بعد کیا حالات ہوں گے اسلئے ہم نے سارا ذاتی سامان سترہ بڑے بیکسوں میں احتیاط کے ساتھ بن کر کے ایک دوست کے مال پرانی دلی میں رکھوا دریا چند دن بعدی دل میں بے چینی اور بدامنی کے آثار شروع ہو گئے اور جوں جوں تقسیم کی تاریخ قریب آتی گئی حالت بد سے بدتر ہوتی گئی اس کے بعد معلوم نہ ہوسکا کہ ہمارے سامان کا کیا حشر ہوا۔جہاں انسانی زبان ، عزت ، آیہ دو کی کوئی قدر باقی نہ رہ گئی تھی اور لاکھوں ان نہر نوع کی دہشت اور ہمیت کا شکار ہو رہے تھے وہاں محض سامان کے متعلق دریافت بھی کر نا سنگدلی کے مترادف ہوتا لہذا نہ ہم نے دریافت کیا نہ ہی کچھ معلوم ہوا۔بھوپال میں ہمارے لئے مکان سامان اور پر سہولت ہزہائی نس نواب صاحب کے فرمان سے مہیا کر دی گئی تھی اور جتنا عرصہ ہم بھوپال میں ٹھہرے ہم نے بفضل اللہ بہت آرام پایا۔فجزاه المد حسن الجزاء حجب آزادی ہند کے ایکٹ کا مسودہ پارلیمنٹ میں پیش ہونے کا وقت آیا تو نواب صاحب نے ارشاد فرمایا کہ تم دو ہفتے کیلئے لندن پلے باد تمہاری وہاں بہت سے ارکان پارلیمنٹ سے شناسائی ہے۔تم وہاں یہ جائزہ لیا کہ سورت پر بحث کے دوران میں گیا